جموں کشمیر کے سیاحتی مقام پرپاکستان نیوی کا قبضہ

0
189

پاکستان کے زیر قبضہ جموں کشمیر میں ایک سیاحتی مقام پرپاکستان نیوی نے قبضہ کرلیاہے ۔

واضع رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تمام زرعی اراضیات پر جرنیلوں کے قبضے کے بعد اب گلگت بلتستان و کشمیرکے عوامی اراضیات پر قبضہ کیا جارہا ہے ۔

سنگرنیوزکو ملنے والی مقامی ذرائع کے مطابق جموں کشمیر کے معروف سیاحتی علاقے لسڈ نہ میں ریسٹ ہائوس تعمیر کرنے کی آڑمیںپاکستان نیوی نے پورے سیاحتی مقام پرقبضہ کرلیا ہے۔اور یہ قبضہ کٹھ پتلی حکومت آزاد کشمیر نےمحض 500 روپے سالانہ کے عوض نیوی کے حوالے کر دیاہے ۔

کٹھ پتلی حکومت کی جانب سے قومی ملکیت والی اس اراضیات کو محض 500روپے سالانہ فیس کے عوض حوالگی کو ایک قبضہ قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تشویش کا ظہار کیا ہے ۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی پرائیویٹ کمپنی یا پرائیویٹ لوگ جب کسی سیاحتی مقامات پہ کوئی پروجیکٹ کرناچائیں تو حکومت کی جانب سے انہیں بھاری ٹیکسیز اور قانونی پیچیدگیوں سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن قابض فوج کومحض 500 سو روپے فی کنال پر سال کے حساب سے زمین الاٹ کی جا چکی ہے۔

مقامی لوگوں نے سنگر نیوزکو اپنا مدعابتاتے ہوئے کہا کہ کئی علاقوں میں عوامی وسرکاری اراضیات پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے۔

فوج اور کٹھ پتلی حکومت کی جانب سے عوامی و سرکاری ملکیت والی اراضیات کو اونے پونے داموں بیچ کر قبضہ کرنے پر مقامی لوگوں میں ایک شدیدغم وغصہ پایا جارہا ہے ۔

مقامی لوگوں نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل باغ شہر کے مین مرکز واٹر سپلائی روڈ پر ایک سرکاری محکمے کی زمین پر فوج نے قبضہ کرکے دوکانیں بنائیں اور کرایے پہ دے دیں جن کا کرایہ فوج وصول کر رہی ہے ۔اور یہ دکانیں ایک اندازے کے مطابق کم 30 سے 35 ہیں جو محکمہ صحت کی زمین پہ قبضہ کرکے تعمیر کی گئی ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ مقامی لوگ فوج و کٹھ پتلی حکومت کی قبضہ گیریت کے خلاف وقتاً فوقتاً آواز بلند کرتے رہتے ہیں لیکن میڈیا پر ریاست کے کنٹرول ہونے پر ان کی آواز دبائی جاتی ہے ۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے سے ہی جموں کشمیر کے تمام خوبصورت مقامات اور تمام اضلاع کے داخلی وخارجی راستوں پر فوج قابض تو ہے ہی اب سیاحتی مقامات پہ نظریں جمائےبیٹھی ہے۔

لوگوں کامانناہے کہ آج لسڈنہ پر قبضہ کرلیا گیا ہے کل سدھن گلی گنگا چوٹی تولی پیر بن جونسہ سمیت باقی مقامات قبضے کی زد میں ہونگے۔

ان کا کہناتھا کہ اگر آج عوام خاموش رہی تو یہ طے ہے کہ کل پوراجموں کشمیرایک عسکری آماجگاہ ہوگا۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستان جو کھبی اپنے آپ کو ایک زرعی ملک قرار دیتاتھا اورپنجاب کی زرعی اراضیات ملک کی اشیائے خوردونوش کی تمام ضروریات پورا کرتا تھا ۔فوج کی جانب سے زمینوں پر جبری قبضے کے بعداب صورتحال یہ ہے کہ کیتھی باڈی کا عمل 30 فیصدپہنچ گیا ہے جس سے ملک اپنی اشیائے خوردونوش کی ضروریات دیگر ممالک سے درآمد کر رہا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here