خیبرپختونخوا : پاراچنار میں اساتذہ سمیت 8 افراد کے قتل کیخلاف احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read
فوٹو: جاوید حسین

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرم کے علاقے پاراچنار میں گزشتہ ہفتے فائرنگ کے مختلف واقعات میں آٹھ افراد کے قتل کے خلاف قبائلیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

ہلاکتوں کے خلاف طوری بنگش قبیلے سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے پاراچنار پریس کلب کی جانب پیدل مارچ کیا جہاں قبائلی رہنماؤں نے ریلی سے خطاب کیا۔

احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی رہنما سید محمد سید اخلاق حسین اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ جمعرات کے روز نامعلوم افراد کے ہاتھوں ایک شخص کے قتل کے بعد مسلح افراد ہائی اسکول تری منگل میں گھس گئے اور چار اساتذہ اور تین ڈرائیور قتل کردئیے، قتل کیے گئے تینوں ڈرائیوروں کا تعلق زیڑان قبائل سے تھا۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ زیڑان قبائل کا کسی کے ساتھ کوئی زمینی تنازع نہیں، اس لیے بعض افسران کی جانب سے بے گناہ افراد کے قتل کو زمینی تنازع قرار دینا افسوس ناک ہے۔

رہنمائوں نے قتل کے وقت اسکول میں موجود ملازمین کے خلاف بھی مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بے گناہ افراد کے قاتلوں کو سزا نہ دی گئی تو وہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔

انہوں نے مشیر تعلیم اور سیکریٹری تعلیم کی بے حس پالیسی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ محکمہ تعلیم کے افسران نے اساتذہ کے جنازوں میں شرکت تک کرنی گوارہ نہ کی۔

طوری بنگش قبائل کی جانب سے سانحہ تری منگل کے حوالے سے جاری پریس ریلیز جاری میں کہا گیا کہ 4 مئی کو ہونے والے واقعات کی انتظامیہ اور بعض میڈیا ذرائع کی جانب سے حقائق کے برعکس تصویر کشی کی گئی اور مذکورہ واقعات کو شاملاتی تنازعات سے جوڑا گیا جو کہ سراسر غلط ہے۔

Share This Article
Leave a Comment