معروف سکیورٹی تھنک ٹینک اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی طرف سے پیر کو شائع کیے گئے ایک تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس تھنک ٹینک سے وابستہ محققین نے سن دو ہزار بائیس میں دنیا بھر میں فوجی اخراجات میں سال بہ سال 3.7 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا۔
یہ شرح فوجی اخراجات میں ایک ہمہ وقتی تیزی کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ کئی سالوں سے ان میں جاری مسلسل اضافے کے رجحان کو بھی واضح کرتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر کے ممالک اپنی افواج پر ریکارڈ رقوم خرچ کر رہے ہیں۔
زیادہ تر یورپی ممالک پر مشتمل یورو۔اٹلانٹک فوجی اتحاد یا نیٹو کے رکن ممالک میں دفاعی اخراجات کم از کم 2014ء سے بڑھ رہے ہیں۔ یہی وہ وقت ہے، جب روس نے ابتدائی طور پر یوکرین پر حملہ کیا اور جزیرہ نما کریمیا کا اپنے ساتھ الحاق کرتے ہوئے مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کی۔
نیٹو کے ارکان نے 2024ء تک اپنی اپنی قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا دو فیصد حصہ دفاعی اخراجات کے اہداف پر خرچ کرنے کے لیے اتفاق کیا ہے اور بہت سے ممالک آہستہ آہستہ اس ہدف کو پورا کرنے کی سمت کام کر رہے ہیں۔
تاہم وہ روسی خطرہ، جس سے مقابلے کے لیے یہ ساری رقم صرف کی جانی ہے، اتنا خوفناک ثابت نہیں ہوا، جتنا کہ اس کا شروع میں تصور کیا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یوکرین نے اپنے سے بہتر سمجھی جانے والی روسی افواج کا اب تک کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور انہیں ملک کے ایک کونے تک محدود رکھا ہے، جو کہ باقی یورپ کے لیے وسیع روسی خطرے پر سنگین شکوک پیدا کر رہا ہے۔
اس کے باوجود نئے فوجی سازو سامان اور دفاع سے متعلق دیگر اخراجات کے لیے پیسہ بہایا جارہا ہے۔