سوڈانی فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان ایک ہفتے سے جاری جنگ میں اب تک کم از کم600 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ نیم فوجی دستے (آر ایس ایف) نے عید کے موقع پر جمعے کے روز 72 گھنٹے کی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے۔
آرایس ایف نے اعلان کیا کہ انہوں نے جمعے کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے سے اگلے 72 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے تاکہ لوگ اطمینان سے عید کا تہوار مناسکیں۔
آر ایس ایف کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جنگ بندی کا مقصد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک ایسی راہداری فراہم کرنا ہے جس سے شہری ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکیں اور اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کرسکیں۔
سوڈانی فوج کی جانب سے تاہم سرکاری طورپر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
سوڈان کے آرمی چیف جنرل عبدالفتاح البرہان اور آر ایس ایف کے رہنما جنرل محمد حمدان دقلو کے درمیان اقتدار کی جنگ میں اب تک 600افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
پردے کے پیچھے جنگ بندی کے لیے ہونے والی بات چیت کے باوجود جمعے کو علی الصبح سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کی سڑکوں پر بمباری ہوئی اور توپ کے گولے گرے۔
سوڈان کے وزیر صحت ہیثم ابراہیم نے آج جمعہ کو العربیہ اور الحدث سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے تمام اسپتالوں میں اب تک 600 سے زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
جبکہ عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ سوڈان میں 413 افراد ہلاک اور 3,551 زخمی ہیں۔
طبی اداروں نے کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں درجنوں افراد ضروری آلات اور بجلی کی کمی کی وجہ سے مر رہے ہیں، جبکہ خرطوم کی گلیوں میں کئی دنوں سے لاشیں پڑی ہیں۔