تربت میں پاکستانی فوج کے اہم کارندے کو ہلاک کیا ،بی ایل ایف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کوجاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں تربت میں پاکستانی فوج کے ایک مخبر کو ہلاک کرنے کی ذمہ قبول کرلی ہے ۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 9 مارچ کی شام پانچ بجے تربت کے علاقے سری کہن میں کرکٹ گراؤنڈ میں فائرنگ کر کے پاکستانی ایجنٹ اور ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ پیر جان المعروف پیرو ولد میاہ داد کو ہلاک کیا۔

انہوں نے کہاکہ مذکورہ ریاستی ایجنٹ و ڈیتھ اسکواڈ کا سربراہ عرصہ دراز سے قابض دشمن کے لیے کام کرتا آ رہا ہے۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ وہ بلیدہ، ہوشاپ، جوسک، آبسر، گورکوپ اور گرد و نواح میں بیشتر فوجی جارحیت میں اول دستے کا کردار تھا۔ اس نے درجنوں افراد کو اپنے ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے اغوا کرکے آئی ایس آئی و پاکستانی فوج کے حوالے کرنے کے علاوہ ریاستی ایما پر کئی بلوچ فرزندوں کو اپنے گھر میں اذیتیں دے کر شہید کیا ہے۔ اسکے گھر کا مہمان خانہ ایک ٹارچر سیل بنا ہوا تھا۔

ان کا کہناتھا کہ ریاست کی جانب سے پیرو کو اغوا شدہ بلوچوں کی تربت سے گوادر اور گوادر سے تربت منتقلی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔ بلوچ صحافی رزاق گل کی شہادت میں بھی یہی شخص ملوث تھا۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے دشمن فوج کے اس اہم کارندے کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے علاقوں میں ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں اور معاون کاروں سے دور رہیں۔ دشمن فوج کی طرح ہم اس کے تمام ایجنٹ ہمارے نشانے پر ہیں۔

مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک قابض دشمن فورسز اور اسکے ایجنٹوں پر حملے جاری رہیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment