ہوشاپ : زمان بلوچ کی اہلخانہ کا دھرناجاری،فورسزکی فائرنگ و تشدد

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے تربت سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکارطالب علم زمان بلوچ کی بازیابی کیلئے اہلخانہ کی جانب سے ہوشاپ میں سی پیک روڈ پر دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔

تاہم ابھی ابھی اطلاعات آرہی ہیں کہ پولیس اور لیویز نے دھرنامظاہرین پر فائرنگ کی اورخواتین وبچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں دھرناختم کرنے کی دھمکی دی۔

دھرنامظاہرین کا گذشتہ روز کہنا تھا کہ زمان بلوچ کی بازیابی تک دھرنا جاری رہے گا۔

مقامی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز شروع ہونے والی دھرنا رات بھر جاری رہی اور ہنوز جاری ہے اورخواتین وبچوں نے آگ جلاکر پوری رات گزاری ۔لیکن پولیس اورانتظامیہ دھرنے ختم کرنے کیلئے تشددکا راستہ اپنا رہے ہیں۔

دھرنے کی وجہ سے ہوشاپ کے مقام پرسی پیک روڈمکمل طور پر بند ہے اور ٹریفک کی آمدورفت متاثر اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ زمان بلوچ کوتربت سے 10 فروری کوفورسز نے جبراً لاپتہ کیا تھا اور اب تک اس کی کوئی خبر نہیں ہے ۔

دھرنے میں خواتین وبچے شریک ہیں۔

زمان بلوچ کے اہل خانہ نے کل تربت میں تربت پریس کلب اور کراچی پریس کلب میں زمان بلوچ کی گمشدگی کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی اور پیر کو سی پیک شاہراہ پر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment