کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ کی جنوری کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یوکرین میں ایران کا سستا ڈرون ’’ شاہد 131‘‘ اس لیے استعمال کیا گیا کہ اس کی قیمت کم اور اس کے اثرات زیادہ تھے۔ پینٹاگون کے مطابق روس نے کئی مہینوں سے یوکرین پر بمباری کے لیے ایران کی طرف سے فراہم کردہ ڈرونز پر انحصار کیا ہے۔ اس کی وجہ اپنے کم ہوتے میزائلوں کے ذخیرے کوپورا کرنے کے مواقع حاصل کرنا بھی ہے۔ یاد رہے جنگ بارہویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔
امریکی "فاکس نیوز” نیوز چینل کے مطابق CAR کی رپورٹ میں نظرثانی شدہ ڈرون کی ایک امتیازی خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ اس میں نہ صرف وارہیڈ کے اگلے حصے پر دھماکہ خیز چارج ہوتا ہے بلکہ فیوزیلیج میں 18 چارجز والا بارودی مواد بھی ہوتا ہے۔ یہ وار ہیڈ کے ارد گرد چھوٹے پیمانے کا ایک ایک "ثانوی دھماکہ خیز اینٹی آرمر اثر” پیدا کرتا ہے۔