پاکستان کے سابق آمرفوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف دبئی میں طویل علالت کے بعد وفات پا گئے ہیں۔
وہ دبئی کے امریکن نیشنل ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔
پرویز مشرف تقریباً نو سال (1999-2008) تک آرمی چیف رہے، وہ 2001 میں پاکستان کے 10ویں صدر بنے اور 2008 کے اوائل تک اس عہدے پر فائز رہے۔
سنہ 1999 میں فوجی بغاوت کے بعد اقتدار میں آنے والے پرویز مشرف 2016 میں علاج کی غرض سے ضمانت حاصل کرنے کے بعد سے متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے۔
گذشتہ برس جون کے مہینے میں پرویز مشرف کے اہلخانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پرویز مشرف ’خرابی صحت کے اس مرحلے میں ہیں جہاں صحت یابی ممکن نہیں اور ان کے اعضا کام کرنا چھوڑ رہے ہیں۔‘
اہلخانہ کے مطابق سابق فوجی صدر ایمیلوئیڈوسس نامی بیماری میں مبتلا تھے۔ اس بیماری میں جسم میں پروٹین کے مالیکیول ناکارہ ہو جاتے ہیں اور مریض کے اعضائے رئیسہ متاثر ہوتے ہیں۔
پاکستان کے اب تک کے آخری فوجی آمر پرویز مشرف کی قسمت گذشتہ دو دہائیوں میں اُتار چڑھاؤ کی شکار رہی۔
سنہ 1999 میں ملک میں اقتدار پر قابض ہونے کے بعد کے ان پر متعدد قاتلانہ حملے ہوئے مگر وہ اُن میں بچ نکلے۔ وہ مغربی دنیا اور اسلامی عسکریت پسندوں کے درمیان ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں صف اول میں کھڑے تھے۔
بعدازاں ان پرغیرقانونی طور پر آئین کو معطل کرنے اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
اُن کے اقتدار کے عروج کے 20 برس بعد اُن کی غیر موجودگی میں عدالت نے انھیں آئین سے بغاوت کے جرم میں سزائے موت سُنائی تھی۔