ہرنائی میں نجی ملیشیا کے قیام کے منصوبے پر آل پارٹیزکا احتجاج

0
212

بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں آل پارٹیز ایکشن کمیٹی، انجمن تاجران، آل ملازمین اتحاد، ہرنائی ایکشن کمیٹی کے صدر صدام ترین و دیگر عہدیداروں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ہرنائی میں حکومت کی جانب سے نجی ملیشیا کے قیام کے منصوبے کو قبائل کو آپس میں دست و گریبان کرنے کا ایک بہت بڑا سازش قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ضلع ہرنائی غیر قانونی پرائیوٹ ملیشیا بنانے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔آئین پاکستان میں کسی ادارے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پرائیوٹ گارڈز کو بھرتی کرے۔

انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ ملیشیاکے قیام سے پورے ضلع ہرنائی کے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ پرائیوٹ ملیشیاکے قیام کی آڑ میں ضلع ہرنائی قبائل کو آپس میں دست و گریبان کرنے کا ایک بہت بڑا سازش کی جارہی ہے۔

پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی اس غیر قانونی عمل کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، چیف جسٹس آف بلوچستان ہائی کورٹ ضلع ہرنائی میں پرائیویٹ ملیشامنصوبے کو روکنے کیلئے ازخود نوٹس لیکر اس ناروا عمل کو روکا جائے۔

انہوں نے کہاکہ اگر حکومت ضلع ہرنائی میں بیروزگاری کے خاتمے کیلئے سنجیدہ ہے اور فورس کی ضرورت ہے تو لیویز فورس، پولیس کے محکموں میں اسامیوں کی منظوری دے کر قانونی طریقے سے ضلع ہرنائی کے بیروزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کو لیویز اور پولیس میں بھرتی کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ ہم ضلع ہرنائی کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ہم روزگار کے خلاف ہے بلکہ قانونی اور آئینی طریقے سے ضلع کے نوجوانوں کو روزگار چاہتے ہیں۔

پریس کانفرنس میں ضلع ہرنائی میں آباد تمام قبائل سے اپیل کی گئی کہ وہ پرائیویٹ ملیشیا میں اپنے نوجوانوں کو بھرتی کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر ضلع میں پرائیویٹ ملییشا کے قیام کا منصوبہ ختم نہیں کیا گیا توضلع ہرنائی میں بھرپور احتجاج کریں گے اور پرائیویٹ ملیشیا کے خلاف مظاہرہ، دھرنے، شٹرڈاؤن، پہیہ جام ہڑتال اور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here