اس صدی کے آخر تک 65 فیصد جانورو پودوں کے اقسام ختم ہونگے،ریسرچ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read
Photo: Dominic Barrington

ایک نئی ریسرچ سے ظاہر ہوا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں موجودہ رفتار سے اضافہ جاری رہا تو انٹارکٹکا میں نصف سے زیادہ جانور اور پودے اس صدی کے آخر تک غائب ہو جائیں گے۔

حال ہی میں جریدے پلوس بیالوجی میں شائع اس ریسرچ کے محققین کو معلوم ہوا کہ اگر دنیا نے معدنی ایندھن کے اخراج میں کمی لانے کے لئے کچھ نہیں کیا تو اس صدی کے آخر تک انٹارکٹکا کے پودوں اور جانوروں کی 65 فیصد اقسام امکانی طور پر غائب ہوجائیں گی۔

اس نئی ریسرچ سے ظاہر ہوا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث سمندری برف کے غائب ہونے سے پینگوئن کی دو اہم نسلوں ایمپرر، یا شہنشاہ اور ایڈیلی کو معدومی کا خطرہ لاحق ہو جائے گا جو اپریل سے دسمبر تک اپنی بقا کے لئے برف پر انحصار کرتے ہیں۔

اس ریسرچ کی مرکزی مصنفہ جاسمین لیی نے سی این این کو بتایا کہ انٹارکٹکا خطے کا آب وہوا کی تبدیلی میں در حقیقت کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ وہاں بڑے پیمانے پر لوگ نہیں رہتے اس لئے اسے سب سے بڑا خطرہ دوسرے خطوں سے در پیش ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوچ کر واقعی افسوس ہوتا ہے کہ انٹارکٹکا جو کرہ ارض پر ایک آخری وسیع و عریض بیابان ہے وہاں دوسرے خطوں کی انسانی آبادی کی سر گرمیوں کے اثرات دیکھے اور محسوس کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پینگوئنز کی مشہور نسلیں مثلاً شہنشاہ پینگوئن اور ایڈیلی معدومی کے خطرے کی زد میں ہیں یہ سوچ کر واقعی ناقابل یقین حد تک افسوس ہوتا ہے کہ ہم اس قسم کی نسلوں کو معدومیت کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

اس ریسرچ سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ انٹارکٹکا میں پودوں اور جانوروں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی موجودہ کوششیں تیزی سے بدلتے ہوئے بر اعظم پر کار گر ثابت نہیں ہو رہیں۔

Share This Article
Leave a Comment