پاکستانی ہندو اپنے متوفیوں کی استھیاں اب دریائے گنگا میں بہاسکیں گے۔ اس سلسلے میں مودی حکومت نے اسپانسر پالیسی میں ترمیم کی ہے جس کے تحت اب پاکستانی ہندو متوفی کا کوئی بھی رشتہ دار 10 دن کے ویزا پر بھارت آ سکے گا اور استھیاں دریائے گنگا میں بہا سکے گا۔ اس طرح پاکستانی ہندوؤں کی ایک بڑی اور آخری خواہش پوری ہو رہی ہے۔
پہلی مرتبہ سینکڑوں پاکستانی ہندو اپنے متوفی رشتہ داروں کی استھیوں (راکھ) کو بھارت میں متبرک سمجھے جانے والے دریائے گنگا میں خود سپرد آب کر سکیں گے۔ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ترمیم شدہ اسپانسرشپ پالیسی سے ممکن ہو سکا ہے۔
یہ پہلا موقع ہوگا جب پاکستان کے ہندو اپنے 426 متوفی رشتہ داروں کی استھیاں (راکھ اور ہڈیاں) بھارت کے ہندو مذہبی شہر ہری دوار میں دریائے گنگا میں خود سپرد آب کریں گے۔
ان متوفی ہندووں کی آخری رسومات پاکستان میں ادا کی جا چکی ہیں۔ ان کی ہڈیاں اور راکھ ہندو مندوں اور شمشان گھاٹوں میں ‘کلش’ (لوٹے) میں رکھی ہوئی ہیں۔
ہندومت کے مطابق اگر ان استھیوں کو ہردوار میں دریائے گنگا میں سپرد آب کردیا جائے تو ان کی روحیں ‘سورگ’ (جنت) میں پہنچ جائیں گی اور انہیں ‘موکش’ (بار بار جنم لینے کے چکر سے نجات) بھی مل جائے گی۔
اب تک کسی پاکستانی ہندو یاتری کو بھارت میں کسی اسپانسر کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ اور کوئی پاکستانی ہندو اپنے متوفی رشتہ دار کی استھیاں دریائے گنگا میں بہانے کے لیے اسی وقت لاسکتا تھا جب بھارت میں رہنے والا اس کا کوئی رشتہ یا جان پہچان والا شخص اس کی ذمہ داری لیتا تھا۔ چونکہ بیشتر پاکستانی ہندوؤں کے بھارت میں کوئی رشتہ دار نہیں اس لیے متوفی شخص کی آخری خواہش پوری ہونا مشکل ہوتی تھی۔