حق دو تحریک کے قائد،جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ بدقسمتی سے 25،26دسمبر کی رات آپریشن کا آغازہوا، پرامن جمہوری احتجاج جو ان بنیادی حقوق کیلئے تھا جو آئین پاکستان نے ہر شہری کو دیے ہیں ان کے حقوق کیلئے ہم لوگ احتجاج کر رہے تھے کہ آپریشن کے ذریعے ہمارے دھرنے کو سبوتاژکرکے تشددکیا گیا،بچوں عورتوں سمیت کسی کا لحاظ نہیں رکھا گیا، آج گوادر، مکران ڈویژن جل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت پرامن شہریوں کو غدار اور تخریب کاری کا لقب دیکر غفلت کی نیند سورہی ہے۔ 126دن عمران خان نے دھرنا دیکر وفاقی دارالحکومت کو بندکیا، سفیر، غیر ملکی سب کو بند کیا، اس دھرنے کی وجہ سے چائنا کے وزیراعظم نہ آسکے، وہاں کیوں طاقت کا استعمال نہیں، ہواخواتین کی بے عزتی نہیں ہوئی بلکہ وہاں کے مظاہرین کی مہمان نوازی کی گئی۔ 126دن وفاقی دارالحکومت بند کرنے والوں کی مہمان نوازی اور دوماہ جائز آئینی حقوق کیلئے دھرنا دینے والے بلوچوں کو زود وکوب، تشددکرکے خواتین وبچوں سمیت سب کو مارتے زخمی کرکے گرفتارکرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فورسز نے گوادر کو سری نگر بنادیا ہے، پھر کہتے ہیں بلوچستان میں بغاوت کیوں ہے اور حالات کیوں خراب ہیں، گوادرکے دھرنے والوں پر گزشتہ 5 دن سے نا انصافی جاری ہے، ریاست تو ماں جیسی ہوتی ہے، توکیا ماں ایسی ہوتی ہے۔ ساحل پر ڈاکوؤں کی رٹ ہے، ہم ان ڈاکوؤں کیخلاف میدان میں آئے ہیں، علاج معالجے، پانی، تعلیم اور ترقی کیلئے ہم نکلے ہیں۔ آپریشن وچھاپوں کے دوران لوگوں سے چھینے گئے زیورات ودیگر قیمتی چیزیں واپسی کی جائیں پھر مذاکرات ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی، نیشنل پارٹی، تاجران سمیت جس نے بھی ہمارے لیے آواز بلند کی ہم سب ان کے مشکور ہیں۔ حکمرانوں کی کوئی حیثیت نہیں وہ صرف مہرے ہیں۔ انڈین جاسوس کو تو یہ لوگ عزت دیتے ہیں، ہم آئین پاکستان کے مطابق حق مانگ رہے ہیں۔ تمہاری غلط حرکتوں، پہاڑوں پر جانے ومسلح جدوجہد پر مجبور کرنے کے باوجود ہم پرامن جدوجہد کریں گے، سیاسی میدان میں بلوچستان و پاکستان کے دشمنوں کا مقابلہ کریں گے۔
مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ گوادر پر سیاسی قبضہ کرنے والے بلدیاتی الیکشن میں بدترین شکست کابدلہ اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے لینا چاہتے ہیں۔ سوشل میڈیا اس لیے بند کیا کہ ان کے کالے کرتوت، جرائم اور تشدد کا کسی کو پتہ نہ چلے۔ سمندر، بازار، دکانیں اور کاروبار بند کرنے کے باوجود 5 دن سے عوام اور تاجر ہمارے ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہاکہ منشیات بند کریں عوام کو پانی روزگار تعلیم دیں تضحیک کرنے والے چیک پوسٹیں ختم کریں لاپتہ افرادکو بازیاب کریں ٹرالر مافیاکو روک لیں بارڈر پر بھتہ وغنڈہ ٹیکس بند کرکے عوام کے روزگار کا تحفظ کریں کیایہ مطالبات غیر قانونی ہیں جس کی وجہ سے ماؤں، بہنوں، بھائیوں کو زخمی کرکے گرفتار کیا اور خواتین کے کپڑے پھاڑے 5 دنوں سے یہ فرعونیت جاری ہے۔