گوادر و اورماڑہ میں حالات بدستورکشیدہ،فورسزتشدد سے نوجوان ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ساحلی شہراور سی پیک حب گوادراور اورماڑہ میں تیسرے روز بھی حالات بدستورکشیدہ ہیں۔

ضلع گوادر کے تحصیل اورماڑہ میں جاری احتجاج کے دوران فورسزکی تشدد سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔

گوادر کے ایک مقامی بلوچی میڈیا کے مطابق گوادر شہر میں جی ٹی کے سامنے خواتین کادھرنا تاحال جاری ہے۔جبکہ پولیس نے نگوری وارڈ اور تھانہ وارڈ میں گھروں سے نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف مقامات جی ٹی گیٹ، شہید حمید سئیراہ، موسیٰ موڑ، پدی زِر شہدگ، سید ہاشمی چوک، بلال مسجد اور جاوید کملکس پر احتجاجی مظاہرین و پولیس کے جھڑپیں جاری ہیں۔

شہر کے تمام رابطے کے ذرائع بند ہیں، فون وانٹرنیٹ کی سہولت معطل کردی گئی ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان ہوش کے ناخن لے اورگرفتار قائدین کو رہا کرے اور رابطے کے ذرائع بحال کرے۔

دوسری جانب ضلع گوادر تحصیل گوادر میں بھی حالات کشیدہ بدستور کشیدہ ہیں اوراحتجاجی مظاہرے و روڈ بلاک دھرنا جاری ہے۔

جبکہ حکومت نے اورماڑہ کے فون اورانٹرنیٹ سروسز بھی بند کردیئے ہیں۔

پولیس کی بھاری نفری اورماڑہ کے داخلی و خارجی راستوں پر تعینات ہے، مظاہرین کو زیروپوائنٹ جانے نہیں دے رہی۔

مقامی ذرائع کے مطابق کل کے احتجاج میں پولیس لاٹھی چارج سے زخمی ہونیوالا 19برس کا دوست محمد ولد دوشمبے وفات پاچکے ہیں۔

واضع رہے کہ اورماڑہ میں پاکستان کی بڑی نیول بیس قائم ہے اور شہرکو مکمل طور پر ایک کنٹومنٹ بورڈ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور شہرمکمل طور پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment