بنوں: سی ٹی ڈی تھانے پرقبضہ برقرار، پاکستانی فوج یرغمالیوں کی بازیابی میں ناکام

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)کے تھانے پر مسلح افراد کا قبضہ تاحال برقرار ہے جبکہ 24 گھنٹے گزرجانے کے باوجود پاکستانی فوج یرغمالیوں کی بازیابی میں مکمل طور پر ناکام ہے ۔

مسلح افراد کی جانب سے یرغمال بنائے گئے اہلکاروں کو 24 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی بازیاب نہیں کروایا جا سکا ہے تاہم حکومتی ترجمان کا دعویٰ ہے کہ صورتحال پولیس اور سکیورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہے۔

اغوا کار یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی اور حکومت ان کا کوئی مطالبہ پورا نہیں کرے گی۔

مقامی ذرائع کے مطابق بنوں چھاؤنی کے علاقے میں کرائے کے ایک مکان میں سی ٹی ڈی کا دفتر قائم ہے جہاں شدت پسندی میں ملوث ملزمان کو تفتیش کے لیے رکھا جاتا ہے اور اتوار کو ان شدت پسندوں نے ڈیوٹی پر تعینات ایک اہلکار سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کی اور وہاں موجود متعدد اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

کہا جارہا ہے کہ مسلح افراد کی تعداد دو درجن کے لگ بھگ بتائی گئی ہے جبکہ فائرنگ کے واقعے میں تین اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔

بنوں پولیس یا پاکستانی فوج کی جانب سے اس واقعے کے بارے میں کوئی بیان تاحال سامنے نہیں آیا تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد پاکستانی فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور فوجی حکام ہی اس آپریشن کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔

ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر ایسی اطلاعات سامنے آئی تھی کہمسلح افراد نے سی ٹی ڈی کے تھانے پر حملہ کر کے اپنے ساتھیوں کو رہا کروانے کی کوشش کی تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بنوں سی ٹی ڈی پولیس سٹیشن پر کسی نے حملہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سٹیشن میں کچھ ملزم دہشت گردی کے شبہے میں زیرحراست تھے جن سے تفتیش کی جا رہی تھی جہاں پر ان ملزمان نے سٹیشن میں موجود سکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی۔

سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے والے مسلح افرادکی جانب سے اتوار کو ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں ایک یرغمالی اور چند مسلحافراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو میں مسلح افراد محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے دیکھے جا سکتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انھیں ہیلی کاپٹر میں افغانستان پہنچایا جائے۔

ویڈیو میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر انھیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا تو ہی وہ اہلکاروں کو رہا کریں گے اور ایسا نہ کیا گیا تو وہ یرغمالیوں کو قتل کر دیں گے۔

مسلح افراد نے اس ویڈیو میں افغانستان جانے کے لیے محفوظ فضائی سہولت کا مطالبہ کیا ہے لیکن دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پیر کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جیل کے عملے کو یرغمال بنانے والے بیشتر افراد ان کے ساتھی ہیں اور طویل عرصے تک قید میں رہنے کی وجہ سے انھیں حالات کا علم نہیں، اس لیے انھوں نے افغانستان جانے کی بات کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں اتوار کی شب حکومتی ذمہ داران سے بات ہوئی ہے کہ انھیں جنوبی یا شمالی وزیرستان منتقل کیا جائے لیکن اس بارے میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

بنوں چھاؤنی کے علاقے میں بھی حالات بدستور کشیدہ ہیں اورمسلح افراد کی جانب سے ویڈیو جاری کرنے اور سوشل میڈیا میں اس بارے میں متعدد باتیں سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے اورچھاؤنی کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، یہاں تک کے چھاؤنی کے رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور گھروں کے دروازے بند رکھیں۔

Share This Article
Leave a Comment