مزاج| سچار بلوچ

0
65

” انسان نفس کا غلام نہیں بلکہ مزاج کا غلام ہوتا ہے”

مزاج ایک لاشعوری عمل ہے جسے بنایا،سنوارا نہیں جاتا بلکہ یہ کافی حد تک خود ایک سنوارا ہوا ہیرا ہے۔جو ہر کہیں،ہر وقت چمکتا ہے۔

چمک کی اس قیود میں قید تمام کے تمام ذرے اس سے ضرور متاثر ہوتے ہیں چاہے وہ دن کا رات اور رات کا دن کیوں نہ ہو۔یہ مزاج ہی ہے جو نیچر کے ہر چیز کی شکل،رنگ،ساخت، نسل کو بناتا ہے اور بنائے گی۔اسکا مطلب ہوا نیچر کی ہر چیزمزاج کے اندر پیدا ہوتا ہے نہ کہ مزاج سے باہر۔جو اس کے گردپابند سلاسل ہے۔یہ مزاج انسان اور جانور حتی کہ ہر چیز کے اندر فطرتا موجود ہے۔اس وجہ سے ہر ایک کی اپنی اپنی مزاج ہے۔شاید یہ مزاج ہے کہ ہر ایک دوسرے سے الگ دکھا ئی دیتا ہے یا دیکھ رہا ہوتا ہے۔حالانکہ ہم شکل کیوں نہ ہوں۔اسی وجہ سے کائنات کا ہر ایک ذرہ ذرہ بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔

اس مزاج کو ہم انسان اور جانوروں کے پیروے میں بند کر کے پرویں گے۔مزاج بنایا نہیں جاتا بلکہ پیدائشی ہوتا ہے۔مثلاًجب بچہ ماں کے رحم مادر سے جنم لیتا ہے تو وہ اسی وقت اپنا مزاج بتا رہا ہوتا ہے۔اکثر رونا، خاموشی، ادھر اُدھر دیکھنا،اپنے ہم نما انسانوں کو دیکھنا اور مسلسل تجربے کے عمل سے اپنے آپ کو گزار رہا ہوتا ہے۔حالانکہ وہ بیچارا کیا جانے۔ یہ تجربہ اس کے زندگی کا سب سے بڑا استادہے اور عموما ًٹھوکر سے ہی اسکا جنم ہوتا ہے۔ اور یہ تک نہیں جانتا آیا میں تجربہ کیوں کر رہا ہوں،کس لیے کر رہا ہوں۔اس سب کو نہ جاننے کے باوجود بھی اپنے مزاج کے مطابق اپنے آپ کو تجربے سے مستفید کر رہا ہوتا ہے۔اسی طرح اس کائنات میں ہر چیز کی اپنی مزاج ہے۔ جیسا کہ عورت اور مرددونوں انسان ہیں۔دونوں ایک دوسرے سے جنسی حوالے سے جدا ہیں۔لیکن دونوں میں مشابہت جسمانی ساخت اور عقل ہے۔

عورت اس نیچر کا ایک حصہ ہے جس نے انسانی اور حیوان تاریخ کو اپنے نرم مزاجی سے مسلسل بدل دیا اور بدل رہا ہے۔یہ عورت کی اچھائی ہے یا کہ برائی،کمزوری ہے یا کہ طاقت،مگر اس نے اپنے مزاج سے فطرت کو اس حد تک متاثر کیا کہ ہر مذہب نے مجبور ہو کر جنت کو بنایا اور اس دنیا کوجہاں عورت کے بغیر زندگی ناممکن ہے۔یہ جنت میں حوریں فطرت کی کمزوری یا عورت کی بہادری ہو۔ مگر عورت نے اپنے مزاج سے دنیا کے کسی جاندار کو متاثر کیئے بغیر نہیں چھوڑا چاہے وہ ظالم بادشاہ کیوں نہیں۔

عورت کی مزاج کا اس بات سے اندازاہ لگایے کہ آپ کے ساتھ جس رشتے سے بندھا ہوا ہے چاہے وہ بہن،ماں یا کہ دوست آپ کو کبھی غلط نہیں کہے گا۔جو بات،جیسی بات،جیسا عمل کیوں نہ ہو اپنے آپ کو ہر عمل کا ذمہ ار قرار دیتی ہے۔بیشک آپ کی غلطی ہے مگر پھر بھی آپ کو تسلی دے گا کہ آپ نہیں میری وجہ سے یہی ہوا ہے۔آپ اپنے آپ کو پریشانی کی قرب میں مبتلا مت کریں۔پریشانی تو مردوں کا کام نہیں ہے یہ تو عورتوں کا شیوا ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ آپ نہیں آپ کا مزاج ہے۔

محبت کے عمل میں آپ دنیا کے بد صورت مرد کیوں نہیں پھر بھی کہے گی،پیا آپ جیسا اس دنیا میں نہیں ہے اور اگر آپ یہ کہیں کہ میں بد صورت ہوں کہی گی نہیں۔پیا ہم دل والے لوگ ہیں دل کی صورت کو دیکھتے ہیں۔دل کی صورت آپ کے مزاج میں ہے نہ کہ فزیک میں۔ عورت کی مزاج سے دنیا کیا خدا بھی نفرت نہیں کر سکتا۔چاہے وہ جس مذہب کا خدا کیوں نہ ہو۔خدا کیا پاگل اور جانور نے بھی کبھی عورت کے مزاج پر سوال نہیں اُٹھایا۔

پاگل کیا جانے کہ اسے عورت کے مزاج سے لطف ملتا ہے۔ وہ بیچارہ صرف عورت کی فزیک کو ہی دیکھ کے مزاج سمجھتا ہے۔پاگل پھر بھی انسان نما جانور ہے۔ مگر جانور نما جانور نے بھی کبھی عورت کے مزاج کو نہیں ٹھکرایا۔جنگل کا بادشاہ ہو یا گھر کی بلی سب کو عورت کی مزاج کیوں بھاتی ہے؟دنیا کے خدواؤں سے ٹکر لینے والی مارکس کی جینی، ہوچی من کی ماں، میر چاکر کی بہن بانڑی،دودا و بالاچ کی ماں سمی، نتھا کی سیمُک ہو یا کیا کی سدو یا پھرہانی کی چاکر و مرید، شلی کی دوست حسن مولانغ، سمی کی مست توکلی،گل بی بی کی ڈائر کو شکست دینا، کریمہ، سمی،بانک فرزانہ،ماہ رنگ یا زرینہ مری اور شاری اول سے لیکر نمیران گُلیں شاری فدائی تک سب کے سب نے قوموں کو عظیم ہستی کے منزل تک پہنچا یا۔جنت کی چابی ہو یا جہنم کی،عزت سے ذلت کا سفر،کفر سے خدا کی محبت کا دعویٰ،پتھر کے زمانے سے روشن خیالی کے دور تک،نیولیتھک سوسائٹی سے لیکر سول سوسائٹی تک، قبائلی سماج سے لیکر بلوچیت کے سفر کو عورت کے مزاج ہی نے تعمیر کیا ہے۔اب بھلا مزاج ہو کہ نفس یہ چشمے کی رحم و کرم پر۔۔۔

٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here