ایران کا 200 سے زائداحتجاجی مظاہرین کی ہلاکت کا اعتراف

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ایران میں حکام نے پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ ستمبر کے وسط میں کردخاتون مہساامینی کی پولیس کے زیرِحراست موت کے بعد شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران میں 200 سے زیادہ افرادہلاک ہوئے ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارناکے مطابق وزارتِ داخلہ کی ریاستی سلامتی کونسل کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ان ہلاکتوں میں سکیورٹی فورسز،عام شہری، فسادی اورحکومت مخالف مسلح عسکریت پسند شامل ہیں۔

ایرانی حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر پہلی مرتبہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد جاری کی گئی ہے۔اس سے چند روز قبل سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک سینیرکمانڈر بریگیڈیئرجنرل امیرعلی حاجی زادہ نے کہا تھا کہ مظاہروں میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ایرانی حکام انھیں ’فسادات‘ قرار دیتے ہیں۔

ریاستی سلامتی کونسل اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر کے فراہم کردہ اعدادوشمار انسانی حقوق کی تنظیموں کی بیان کردہ ہلاکتوں کی تعداد سے کہیں کم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مظاہروں میں 400 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔

ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس گروپ (آئی ایچ آر)کے مطابق ایرانی سکیورٹی فورسز نے ستمبرکے وسط میں کردخاتون مہساامینی کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے ردعمل میں شروع ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں 448 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ان میں 60 کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔ان میں 9 لڑکیاں اور29 خواتین شامل ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment