پاکستانی فوج نے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا اعتراف کیا ہے۔
مقبوضہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کے کور کمانڈر 12کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ میں اس بات کو یقینی بناؤنگا کہ کسی کو بغیر وجہ نہیں اٹھایا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روزنیشنل سیکورٹی نامی ایک ورکشاپ سے خطاب میں کیا۔
واضع رہے کہ لاپتہ افراد لواحقین بلوچستان سمیت پاکستان بھر میں جبری گمشدگیوں میں پاکستانی فوج اور ان کی اٹیلیجنس اداروں کو ملوث قرار دیتے ہیں لیکن پاکستانی فوج نے ہمیشہ اسے مسترد کیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا دل لاپتہ افراد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ دھڑکتا ہے اس بات کو یقینی بناؤنگا کہ کسی کو بغیر وجہ نہیں اٹھایا جائے گا۔
واضع رہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کے مطابق بلوچستان میں تیس سے چالیس ہزار لوگ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہیں۔
کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں 50فیصد چوکیاں پولیس کے حوالے کرچکے ہیں۔پہلے کوئٹہ فوجی اور نیم فوجی چوکیوں سے بھرا ہوا تھا اور بھاری ہتھیاروں سے لیس سیکیورٹی اہلکار ان پر کام کرتے ہوئے اسکول جانے والے اور گھر واپسی کے دوران ان سے گزرنے والے اسکول کے بچے خوفزدہ ہوتے تھے۔
یہ دعویٰ بالکل رد ہے کہ بلوچستان میں 50فیصد چوکیاں پولیس کے حوالے کی جاچکی ہیں۔ بلوچستان بھر میں ہر پانچ کلو میٹر پر ایف سی کی چوکی قائم ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیاکہ بلوچستان کے عوام کو پیار محبت اور اپنائیت چاہئے بلوچستان کے پر امن عوام کو عرصہ دراز سے نظر آنے والی بندوق کے سائے دے دور کرنا ہے بندوق صرف امن خراب کرنے والوں کیخلاف ہونی چاہیے نہ کہ معصوم شہریوں کیلئے۔
انہوں نے کہاکہ تفتیش کیلئے کسی کی بھی حراست کی ضرورت پڑی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بد امنی پیدا کرنے والوں سے پر امن لوگوں کے سکون اور عزت کی قیمت پر نہیں نمٹنا امن خراب کرنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں ہوگی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہزارہ برادری کی سیکورٹی اور معمولات زندگی بہتر بنانے کیلئے صوبائی حکومت اور انظامیہ کے ساتھ مل کر اقدامات کررہے ہیں
خیال رہے کہ ہزاراہ برادری کوپاکستانی فوج کے اپنے لے پالک لشکری جھنگوی، طالبان اور دیگر شدت پسند مسلح مذہبی گروہوں نے نشانہ بنایا اور قتل عام کیا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ طویل عرصے سے بندوق کے سائے میں رہتے ہیں۔ میں انہیں بندوق کے سائے سے باہر نکالنا چاہتا ہوں۔
لیفٹیننٹ جنرل غفور کا کہنا تھا کہ یہ بیانیے کی جنگ ہے جسے باغیوں کے بیانیے کو ڈی آکسیجن کر کے، غیر حرکیاتی نقطہ نظر سے جیتنا ہے۔