طالبان افغان عوام کی بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے،ماسکو کانفرنس

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ماسکو میں ہونے والی کانفرنس میں روس، چین، پاکستان، ایران، بھارت، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے خصوصی نمائندوں اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی جب کہ قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ترکی کے نمائندے بطور مہمان شریک ہوئے۔

عالمی برادری اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک طالبان سے ایک ایسی نمائندہ حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں جس میں تمام افغان نسلی گرہوں کی نمائندگی ہو اور جو خواتین او ردیگر محروم طبقات کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

طالبان کو اقتدار میں آئے ایک سال سے زائد کا عرصے ہو گیا ہے اور اس دوران طالبان انتطامیہ کی طرف سے ایسے اقدامات کیے گئے جن کے تحت نہ صرف خواتین کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو گئے ہیں۔ بلکہ افغان معاشرے میں ان کی آزادانہ نقل و حرکت بھی مشکل ہو گئی۔ دوسری جانب نوجوان لڑکیوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی ملک کے اکثر علاقوں میں معطل ہے۔

طالبان کا موقف ہے کہ ان کی عبوری حکومت میں تمام افغان نسلی اور دیگر سیاسی گروہوں کی نمائندگی ہے اور افغان خواتین کو ملک کے رسم و رواج کے مطابق تمام حقوق حاصل ہیں۔ لیکن بین الاقوامی برادری اور خطے کے دیگر ممالک طالبان کے اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔

مبصرین کا کہنا ہے اسی وجہ سے شاید طالبان کو بدھ کو افغانستان سے متعلق ہونے والی ماسکو کانفرنس میں بطور مبصر شرکت کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment