بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حق دو تحریک بلوچستان کے احتجاجی دھرنے کو اٹھارہ دن ہوگئے۔
اٹھارہویں روز حق دو تحریک کی جانب سے گوادر کے بچوں کی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
ریلی کے شرکاکے ہاتھوں میں پلے کارڈ بھی تھے جن میں مختلف مطالبات درج تھے۔
احتجاجی ریلی کا آغاز عمر بن خطاب مسجد کے سامنے سے ہوا جو فش ہاربر روڈ سے ہوتی ہوئی دھرنا گاہ پہنچی۔
بچوں کی ریلی کی قیادت تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن اور سینئر سیاستدان حسین واڈیلہ نے کی۔
اٹھارویں روز دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بچوں کی ریلی 20 نومبرکو ہونیوالے احتجاج کا ایک معمولی اشارہ ہے۔ 20 نومبر تک وفاقی حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو ایکسپریس وے اور گوادر پورٹ کو بند کردینگے۔ اس تحریک کو بچوں کے ذہنوں میں بھی ڈال رہے ہیں تاکہ مستقبل میں بچے اس تحریک کی کمان سنبھال کر جدوجہد کو جاری رکھیں۔ ہمارے بچے، عورتیں، بزرگوں اور نوجوانوں کوشعور آگیا ہے، اب کوئی بھی اس تحریک کو آگے بڑھنے سے روک نہیں سکتا۔
انہوں نے کہا کہ چالیس سال میں ہمارے نمائندوں نے جتنے بھی لوگوں کو بہکایا اب وہ دن گزر گئے ہیں۔ اب ہر بچہ، ہر بزرگ، ہر نوجوان اور ہر عورت باشعور ہوچکی ہے۔کوئی بھی انکے بہکاوے میں نہیں آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ منشیات نے گوادر کے لوگوں کی زندگیاں اجیرن کردی ہیں، چاروں اطراف دن دہاڑے منشیات فروخت ہورہی ہے لیکن کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ ہر گھر میں لوگ منشیات کے عادی بن چکے ہیں، والد موجود ہیں، بچے پھر بھی یتیم ہیں۔ بچوں کے پاؤں میں جوتے تک نہیں، یہ ان لوگوں کے لیے شرم کی بات ہے جو پاکستان کو ایٹمی ملک کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے موجودہ نظام کو ہزار دفعہ لعنت کرتا ہوں۔پوری دنیا میں بدترین نظام پاکستان کا ہے۔ پاکستان کیا ہے چوروں، ڈاکوؤں، سرداروں، نوابوں، کرنل، ججوں کا نام اگر پاکستان ہے تو پھر ایسے پاکستان کو ہم نہیں مانتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حق دو تحریک ظالموں کے مقابلے میں ہزاروں مجاہدین تیار کررہا ہے۔ یہ مجاہدین ان ظالموں کی جینا حرام کردینگے۔
انہوں نے کہاکہ کارکنان 20 نومبر کی بھرپور تیاری کریں۔ اس دوران وفاقی حکومت نے اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے تو بیس نومبر کو پرامن جنگ ہوگی تو سی پیک کے تمام پروجیکٹس کو بند کردیا جائیگا۔