ایران کا روس کو ڈرون و میزائل فراہمی کا منصوبہ کسی صورت قبول نہیں، نیٹو

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

نیٹو کے سیکرٹری جنرل سٹولٹن برگ نے جمعرات کو کہا کہ یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں روس کو ڈرون اور بیلسٹک میزائل سمیت ہتھیار فراہم کرنے کے ایران کے منصوبے ”ناقابل قبول” ہیں۔

کئیف اور مغرب تہران پر ماسکو کو ڈرون فراہم کرنے کا الزام لگاتے ہیں، تاہم دوسری طرف روس اور ایران الزام کی تردید کرتے آ رہے ہیں۔

سٹولٹن برگ نے استنبول میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”ہم ایران کو ڈرونز کی نمائش کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اور وہ روس کو بیلسٹک میزائل فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے” انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ ناقابل قبول ہے۔ کسی بھی ملک کو اس غیر قانونی جنگ میں ماسکو کو مدد فراہم نہیں کرنی چاہیے۔”

کئیف کا دعویٰ ہے کہ تقریباً 400 ایرانی ڈرون پہلے ہی یوکرین کی شہری آبادی کے خلاف استعمال ہو چکے ہیں اور ماسکو نے تقریباً 2000 طیاروں کا آرڈر دیا ہے۔ دوسری طرف تہران نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

سٹولٹنبرگ نے کہا کہ روسی صدر پوتین جس طرح یوکرین میں ناکام ہو رہے ہیں ویسے ہی ”زیادہ سفاکیت کے ساتھ جواب دے رہے ہیں۔”

انہوں نے کہا حالیہ ہفتوں میں ہم نے یوکرین بھر میں درجنوں ڈرون اور میزائل حملے دیکھے ہیں خاص طور پر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سٹولٹن برگ نے کہا کہ روس ظالمانہ اور جان بوجھ کر یوکرین کے شہریوں کو موسم سرما کے آغاز میں پانی اور بجلی سے محروم کر رہا ہے۔

اسی تناظر میں یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے حملوں کی وجہ سے جمعرات کی شام تقریباً 4.5 ملین یوکرینی باشندے جو ملک کی جنگ سے پہلے کی آبادی کا 10 فیصد سے زیادہ ہیں عارضی طور پر بجلی سے محروم تھے۔

زیلنسکی نے ایک ویڈیو تقریر میں کہا کہ کئیف اور دیگر 10 علاقے متاثرہ ہیں۔ انہوں نے مقامی حکام پر زور دیا کہ وہ بجلی کی بچت کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دکان کی کھڑکیوں یا نشانات کو روشن کرنے کا وقت نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment