وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز کی طرف سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں تنظیم نے بولان سے سمالانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے خواتین اور بچوں کی فورسز کے ہاتھوں غیر قانونی حراست لینے پہ تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے تنظیم کے علم میں آیا ہے کہ بولان سے فورسز نے نہتے خواتین اور بچوں کو تحویل میں لے لیا ہے۔
اعلامیہ میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بولان آپریشن میں خواتین اور بچوں کو حراست میں لینے کا نوٹس لے کر انہیں فوری طور پر رہا کرایا جائے۔
تنظیم کو موصولہ اطلاعات کے مطابق فورسز کے ہاتھوں حراست میں لیے جانے والے خواتین و بچوں میں سمو سمالانی، زر بخت سمالانی، بانی سمالانی، فریدہ، سمیدھا سمالانی اور راجی شامل ہیں۔