حق دو تحریک بلوچستان نے 11 ماہ بعد حکومت بلوچستان کی نااہلی، حق دو تحریک کے ساتھ ہونیوالے معاہدوں کی عدم تکمیل اور ضلع گوادر کے مسائل حل نہ ہونے کیخلاف دوبارہ احتجاجی دھرنے کا آغاز کردیا۔
دھرنا سابقہ جگہ واہی چوک گوادر پورٹ پردی جارہی ہے۔
احتجاجی دھرنے میں لوگوں کا جوش و جذبہ برقرارہے۔
دھرنا سے قبل حق دو تحریک کی جانب سے ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
ریلی حق دو تحریک بلوچستان کے قائد مولانا ہدایت الرحمن اور سینئر سیاستدان حسین واڈیلہ کی قیادت میں پدی ذر شیڈ سے ہوا جو فش ہاربر روڈ سے ہوتا ہوا دھرنا گاہ پہنچ گیا۔
دھرنے کا آغاز بلوچی قومی ترانہ ماچکیں بلوچانی سے شروع ہوا جس کے احترام میں دھرنا گاہ میں موجود تمام شرکائاپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ہوئے۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حق دو تحریک بلوچستان کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ 11 ماہ قبل دھرنے سے ہمیں بہت کامیابی ملی ہے، 32 دنوں کے اس دھرنے سے بلوچستان کے کونے کونے سے لوگوں کے دلوں سے فورسز کا خوف نکل چکا ہے۔ ہمارے دھرنے نے مایوس لوگوں کو احتجاج کرنے کا طریقہ سکھایا ہے۔ اس دھرنے نے نوجوانوں، بزرگوں اور عورتوں کو مجاہد بنایا ہے۔ لوگوں کو یہ درس دیا کہ وہ بیٹھکوں کا طواف کرنا چھوڑ کر غیرت کی زندگی گزاریں۔
انہوں نے کہا کہ ان 11 مہینوں میں ہم خاموش نہیں رہے بلکہ عوام کے حقوق کے خاطر روڈوں پر رہ کر ہر طرح کی جدوجہدکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان قدوس بزنجو نے 11 ماہ قبل ہمارے دھرنے میں ہم سے تحریری معاہدہ کیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر تمام مسائل کو حل کرینگے لیکن ایک ماہ اپنی جگہ بلکہ گیارہ مہینے تک قدوس بزنجو مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ وزیراعلیٰ ایک کرپٹ، بدزبان، بے بس، بے اختیار اور ناکام وزیراعلیٰ ہیں۔ وزیراعلیٰ اگر ایک اہل اور قابل وزیراعلیٰ ہوتے تو صوبائی حکومت علی حسن بروہی نہیں چلاتا۔
انہوں نے کہا کہ قدوس بزنجو دن بھر سوتے رہتے ہیں جبکہ علی حسن حکومت چلا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان بھی دوسروں کے اشاروں پر چل رہے ہیں بلکہ چیف سیکرٹری بلوچستان کا اختر مینگل نے انٹرویو لے کر بھیجا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دھرنے سے قبل ایک ہفتے کے دوران تین دفعہ حکومتی وفد نے ہمارے ساتھ مذاکرات کیے لیکن تینوں دفعہ ہمارے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں اور آج ہم دھرنا دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نوجوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنکے حوصلے آج بھی بلند و مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معذور وہ نہیں جسکے ہاتھ، پیر، آنکھ نہیں بلکہ معذور وہ ہے جس میں حوصلہ نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام قومی اردو چینلوں کا مکمل بائیکاٹ کریں کیونکہ قومی چینلز کی پالیسی بلوچ دشمن پالیسی ہے، ان چینلوں کو بلوچستان کے عوام سے کوئی سروکار نہیں، لوگ مریں یا جئیں بلکہ ان چینلوں کو بلوچستان میں بند کردیا جائے، بلوچ عوام کو ان چینلوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس دھرنے کیخلاف کسی نے طاقت کا استعمال کیا یا ہمیں دھمکی دی تو یہاں نہ گوادر پورٹ چلے گا اور نہ ہی سی پیک پروجیکٹس چلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ناکامی یا شکست کے آپشن موجود نہیں ہیں، یا حق حاصل کرینگے یا جام شہادت نوش کرینگے لیکن عوام کے حقوق سے کسی طور بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو 3 دن کا الٹی میٹم دیتے ہیں کہ وہ ہمارے مطالبات فوری طور پر حل کریں بصورت دیگر ہم اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔