بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں جبری لاپتہ عظیم دوست سمیت دیگر بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے کیے جاوید کمپلیکس سے لے کر سید ظہور شاہ ہاشمی چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
احتجاجی ریلی میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی جنہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے نعرہ بازی کی۔
ریلی کے شرکاء لاپتہ عظیم دوست سمیت نسیم بلوچ ودیگر لاپتہ افراد کی تصاویر سمیت بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے لاپتہ عظیم دوست کی ہمشیرہ رخسانہ دوست بلوچ نے کہا کہ یہ ریلی میرے بھائی عظیم دوست سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے نکالی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا بھائی عظیم دوست 3 جولائی 2015 سے جبری گمشدگی کے بعد تاحال لاپتہ ہے۔
لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ہمارے احتجاج میں آپکی شرکت ہمارے لیے مزید لڑنے کا حوصلہ ہوگی۔
احتجاجی ریلی میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شریک تھی جو اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کررہے تھے۔