ایران کی خواتین سے اظہارِ یکجہتی کیلئے دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

ایران کے دارلحکومت تہران کی اخلاقی پولیس کی حراست میں رواں ماہ کے اوائل میں مہسا امینی کی مبینہ ہلاکت کے خلاف ایران کے شہری اتوار کو مسلسل نویں رات سڑکوں پر نکل آئے۔

دوسری جانب ایران کی خواتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے یونان کے دارالحکومت ایتھنز، جرمنی کے شہر برلن، بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز، ترکی کے شہر استنبول، اسپین میں میڈرڈ، فرانس کے دارالحکومت پیرس اور امریکہ کے شہر نیویارک سمیت دنیا کے کئی ممالک کے شہروں میں احتجاج اور مظاہرے کیے گئے۔

ایران میں احتجاج اور مظاہروں کا آغاز رواں ماہ 17 ستمبر کو 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کے جنازے کے موقع پرہوا تھا۔ ان کی ہلاکت لباس پر اسلامی جمہوریہ ایران کی سخت پابندیوں کا نفاذ کرنے والی اخلاقی پولیس کی حراست میں 16 ستمبر کو ہوئی تھی۔

دارالحکومت تہران میں مہسا امینی کو 13 ستمبر کو حجاب کے سخت قوانین کو توڑنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مہسا امینی کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ گرفتاری کے بعد مہسا امینی کو پولیس کی گاڑی میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران ان کے سر پر کئی زخم آئے تھے۔

پولیس نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہسا امینی کی موت اسپتال لے جانے کے بعد ہوئی کیوں کہ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔

ان کی ہلاکت کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تو ان مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق احتجاج کے دوران 41 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اتوار کی شب یورپی ملک ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایران کے حوالے سے قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے ایران کی سڑکوں پر مظاہروں کی کئی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی ہیں۔

ان ویڈیوز اور تصاویر میں نظر آ رہا ہے کہ احتجاج میں خواتین بھی شامل ہیں جب کہ کئی مقامات پر خواتین سڑکیں بند کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مظاہرین ’ڈکٹیٹر مردہ باد‘” کے نعرے بھی لگا رہے ہیں۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق ایران میں انٹر نیٹ کی بندش کی وجہ سے اموات کی درست تعداد اور احتجاج کی شدت کی تصدیق مشکل ہو رہی ہے۔

عینی شاہدین نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ مظاہرے متعدد مقاما ت پر جاری ہیں۔

تہران کے علاوہ تبریز اور شیراز کے احتجاج کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں مظاہرین میں خواتین شامل ہیں جو اپنے اسکارف یا عبایا اتار کر مظاہر ے میں شامل ہو رہی ہیں جب کہ بعض مظاہرین حکام کے خلاف بھی نعرے لگا رہے ہیں۔

’آئی ایچ آر‘ نے اتوار کو بتایا کہ ایران کے اساتذہ کی تنظیم ’ایران ٹیچر ز یونین‘ کے ایک گروہ نے اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مظاہروں کی حمایت کریں جب کہ پیر اور بدھ کو درس و تدریس کا عمل معطل رکھا جائے اس دوران احتجاج میں کلاسز کا بائیکا ٹ کرتے ہوئیقومی ہڑتال کی جائے۔

Share This Article
Leave a Comment