مودی سے ملاقات: یوکرین میں ڈونبس کی ’آزادی‘ روس کا مرکزی فوجی ہدف ہے، پوٹن

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے خبررساں اے ایف پی کے مطابق جمعے کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ وہ یوکرین میں جلد از جلد تنازعہ ختم کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ بھارت کو اس لڑائی پر تشویش ہے۔تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ روسی صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ یوکرین کے مشرق میں ڈونبس کے پورے علاقے کی ’آزادی‘ روس کا مرکزی فوجی ہدف ہے اور اس مقصد پر نظرثانی کی ضرورت نہیں ہے۔

اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا کہنا تھا کہ ”ہم جلدی میں نہیں ہیں“۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس نے یوکرین میں جنگ کے لیے صرف رضاکار فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔

تاہم خبر رساں اے ایف نے روس کے صدر کے ایک مختلف بیان کا حوالہ دیا ہے۔

اے ایف پی ک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر پوٹن نے وزیراعظم نریندر مودی سے کہا کہ ”میں یوکرین کے تنازعے پر آپ کے موقف، آپ کے خدشات کو جانتا ہوں… ہم اسے جلد از جلد ختم کرنے کی پوری کوشش کریں گے“۔

روسی صدر نے یوکرین کی قیادت پر الزام لگایا کہ اس نے مذاکراتی عمل کو مسترد کردیا ہے اور وہ میدان جنگ میں اپنے مقاصد کو فوجی طریقے سے حاصل کرنا چاہتی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ملاقات میں بھارت کے وزیر اعظم مودی نے پوٹن کو بتایا کہ اب جنگ کا وقت نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment