سائبر حملے کے بعد البانیہ سے ایرانی سفارت کار ملک بدر، سفارتی تعلقات ختم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

البانیہ نے جولائی میں ہونے والے سائبر حملے کے لیے ایران کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے بدھ کے روز اس سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے۔ تہران نے اس اقدام کی شدید مذمت کی اور تیرانا کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

نیٹو کے رکن ملک البانیہ نے جولائی میں ہونے والے سائبر حملے کے لیے تہران کو مورد الزام ٹھہراتے ہو ئے بدھ کے روز تمام ایرانی سفارت کاروں اور سفارتی عملے کو 24 گھنٹے کے اندر ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا۔

البانیہ کے وزیر اعظم ایدی راما نے ایک ویڈیو بیان میں کہا، ”حکومت نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔”

راما کا کہنا تھا، ”یہ انتہائی ردعمل سائبر حملے کی سنگینی اور خطرے کے بالکل عین مناسب ہے۔ اس ایرانی حملے سے سرکاری خدمات کو مفلوج کرنے، ڈیجیٹل نظام کو مٹا دینے، ریاستی ریکارڈز کو ہیک کرنے، سرکاری انٹرانیٹ الیکٹرانک مواصلات چوری کرنے اور ملک میں افراتفری اور عدم تحفظ پیدا کرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔”

قبل ازیں البانوی وزیراعظم ایدی راما نے 15جولائی کو ہونے والے سائبر حملے کی تحقیقات کے بعد ایرانی سفارت کاروں اور سفارت خانہ کے عملہ کو 24 گھنٹے کے اندرملک چھوڑنے کا حکم دیا۔

البانوی پارلیمان کے ایک رکن نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی حکومت کے پاس ملک کے خلاف سائبرحملے میں ایران کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ البانیہ کی سکیورٹی سروسز نے اس حملے کی ذمے دار ایرانی گروہوں کی نشان دہی کی ہے۔

ایران نے البانیہ میں سائبر حملوں کے پیچھے اس کا ہاتھ ہونے کے الزامات کو ”بے بنیاد” قرار دیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment