افغانستان: مسجد میں دھماکے سے طالبان حامی رہنما سمیت 20 افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

افغانستان کے شمال مشرقی صوبے ہرات کی ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے میں طالبان کے حامی مذہبی رہنما مولوی مجیب الرحمان سمیت 20 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

طالبان حکومت کی وزارت داخلہ نے واقعے کی تصدیق کی کہ ’ہرات کی گزرگاہ مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ہمارے کچھ ہم وطن زخمی اور ہلاک ہوئے‘۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پھر اپنے ٹوئٹر پیج پر لکھا کہ اس دھماکے میں مولوی مجیب الرحمان انصاری بھی مارے گئے ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق دھماکے میں اب تک 20 افراد ہلاک اور200 زخمی ہوئے ہیں تاہم سرکاری ذرائع نے 18افراد کی ہلاکت جبکہ 23کی زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

طالبان ترجمان نے کہا کہ ’امارت اسلامیہ ان ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتی ہے‘ اور مجرموں کو ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی۔

ہرات میں طالبان حکومت کے پہلے نائب ملا برادر کی قیادت میں ایک اقتصادی اجلاس ہوا جس میں مولوی انصاری نے تقریر کی۔ تقریر کے بعد وہ اجلاس سے نکل گئے اور حملے میں مارے گئے۔

سوشل میڈیا پر اس حملے سے منسوب کچھ ویڈیوز موجود ہیں جو دل دہلا دینے والی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ دھماکہ شدید تھا۔

ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ہرات کی گزرگاہ مسجد کے مبلغ مولوی مجیب الرحمان خواتین کے حجاب کے بارے میں اپنے سخت تبصروں کے لیے مشہور تھے اور وہ ملک میں ’اخلاقی بدعنوانی‘ کو نہ روکنے پر سابق جمہوری نظام کے حکام پر تنقید کرتے تھے۔

تقریباً دو سال پہلے ایک خبر آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ایک مذہبی پولیس بنا رہے ہیں جو اخلاقی کرپشن میں ملوث افراد کو سزا دے گی۔

انھوں نے کہا ’اگر وہ گزرگاہ کے ارد گرد اخلاقی بدعنوانی دیکھیں گے تو وہ اس پر شرعی حدود کا اطلاق کریں گے۔‘

اس وقت مولوی انصاری کی ہدایت پر ہرات شہر میں بڑے بڑے تبلیغی بورڈ بھی لگائے گئے تھے جن میں سے ایک پر لکھا تھا: ’عورت کا حجاب مردوں کی بے عزتی ہے۔‘

آن لائن میڈیا پر لوگوں نے ان کے اس موقف پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اس وقت کے حکام نے جواب میں کہا کہ قانون کی عملداری اور مجرموں کو سزا دینا ان کا کام نہیں بلکہ عدالتوں اور حکومت کا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment