انگور اڈہ میں پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپیں، ایک شہری ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں پاکستان اور افغانستان کی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ایک شہری ہلاک اور تین افراد زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ سرحدی آبادی میں مکانات اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق 27 اکتوبر کی شب افغان طالبان نے انگور اڈہ بازار اور سرحدی علاقے میں واقع شہری گھروں پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی۔

بیان کے مطابق ایک طالبان مارٹر گولہ ایک گھر پر گرنے سے ایک نہتے شہری کی موت واقع ہوئی جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ گولہ باری سے بازار کی متعدد دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ سرحد پر تعینات پاکستانی فورسز نے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے اس اقدام کا مؤثر اور بھرپور جواب دیا ہے۔

جنوبی وزیرستان لوئر میں تعینات ایک پولیس افسر کے مطابق افغان جانب سے مبینہ طور پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس کے دوران شہری علاقوں میں بھی گولے گرے۔ ان کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان فورسز کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

انگور اڈہ کے ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ منگل کی دوپہر اچانک شدید گولہ باری شروع ہوئی۔ ان کے بقول ایک گولہ ایک رہائشی مکان پر آ گرا جس کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین افراد زخمی ہوئے۔

انگور اڈہ کے قومی جرگے کے رکن مولانا تسبیح اللہ کے مطابق سرحد پر کشیدگی تو پہلے سے موجود تھی، تاہم گذشتہ روز اچانک فائرنگ اور گولہ باری شروع ہو گئی۔ ان کے مطابق کئی گولے شہری آبادی میں گرے اور ایک مکان کو براہِ راست نشانہ بننے سے جانی نقصان ہوا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ایک گولہ لکڑیوں کے ایک ٹال پر بھی گرا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ آگ نے قریبی دکانوں تک پھیل کر مالی نقصان پہنچایا۔

دوسری جانب سکیورٹی ذرائع نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی سرحدی چوکیوں سے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر سنائپر رائفلوں سمیت چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ بیان کے مطابق پاکستانی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

اُدھر مقامی ذرائع کے مطابق بُدھ کی صبح دونوں جانب صورتحال نسبتاً پُرسکون رہی۔ مولانا تسبیح اللہ کا کہنا ہے کہ مقامی جرگے نے دونوں ممالک کی فورسز سے فائرنگ روکنے کی اپیل کی تھی تاکہ زخمیوں کو محفوظ طریقے سے ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق فی الحال علاقے میں فائرنگ کی کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی گزشتہ دو برس سے وقفے وقفے سے جاری ہے۔ اکتوبر 2025 میں سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مختلف سرحدی مقامات پر جھڑپوں اور فائرنگ کے واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article