بلوچستان کے ضلع خضدار میں گیسٹرو وبا کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ وبائی مرض سے اب تک 20 افراد کی موت واقعہ ہوگئی ہے جبکہ 6 سو سے زائد مریض خضدار ہسپتال میں داخل کردیئے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق خضدار میں مون سون بارش اور آنے والے سیلاب کے بعد وبائی امراض شدت کے ساتھ خضدار کے شہری اور دیہی علاقوں میں بڑھنے لگے ہیں۔
سیلاب کے دوران رپورٹ ہونے والی اموات کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔ 12 افراد کی اموات خضدار ایمرجنسی میں رجسٹرڈ ہوئے 5 افراد تحصیل وڈھ کے مختلف علاقوں اور تین اموات تحصیل مولہ سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ جب کہ گیسٹرو مرض میں مبتلاء600 افراد ایسے ہیں جنہوں خضدار ہسپتال علاج کے لئے لایا گیا۔
ٹیچنگ ہسپتال خضدار میں کام کرنے والے ہیلتھ ورکر حلیم غلامانی کا کہنا تھا کہ وہ خضدار ہسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں کام کررہے ہیں اور سیلاب کے دوران ان کے پاس لائے جانے والے ایسے 12 افراد تھے کپ جن کی موت پہلے واقعہ ہوگئی تھی اور انہیں ایسے وقت پر ہسپتال لایا گیا کہ ان کا علاج ممکن نہیں تھا۔
ان کا مذید کہنا تھا کہ خضدار ایمرجنسی میں گیسٹرو کے ساڑھے چھ سو سے زائد مریض رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن کا علاج کیا گیا اور وہ گیسٹرو مرض میں مبتلا تھے۔ روزانہ کی بنیاد پر گیسٹرو کے مریض ہسپتال لائے جاتے ہیں یہ اعدادو شمار صبح کے اوقات کے ہیں شام کے اوقات کے مریض اس کے علاوہ ہونگے۔
پیرامیڈیکس رہنمااسماعیل زہری کا کہنا تھا کہ شہری گیسٹرو مرض سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں پانی ابال کر پی لیں او آر ایس گھر میں رکھیں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں۔