بلوچستان کے ساحلی شہر گوادرمیں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں دو نوجوانوں کی جبری گمشدگی کیخلاف عوام نے احتجا جاًرواڈ بلاک کردیا۔
مظاہرین نے گوادر میں جبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاجاًمیرین ڈرائیو پر احتجاجی مظاہرہ کیااور ٹائر جلا کر سڑک بند کردیا۔
فورسز ہاتھوں لاپتہ ہونے والوں کی شناخت حلیم محمد رفیق اور خدا بخش کے ناموں سے ہوگئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق حلیم محمد رفیق ایک فٹبالرہیں۔
احتجاجی مظاہرے کے نتیجے میں حلیم محمد رفیق کو رہا کردیا گیاجبکہ خدابخش تاحال لاپتہ ہیں۔
جبری گمشدگیوں کیخلاف مظاہرے کے شرکائنے حکومت اور مقتدر حلقوں سے لاپتہ افراد کی جلد بازیابی اور اس قسم کے واقعات کے سدباب کا مطالبہ کیا ہے۔
گوادر سمیت مکران بھر سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کئی لوگ جبری طور پر گمشدہ کردیے گئے۔
واضع رہے گذشتہ شب سے لیکر اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں سے نو افراد پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہوئے ہیں حراست بعد لاپتہ ہونے والے پانچ نوجوان بعد ازاں بازیاب ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ گئے-
گذشتہ شب بلوچستان کے ضلع کیچ سے دو کمسن طالب علموں سمیت آٹھ افراد حراست بعد لاپتہ کردئے گئے تھے۔ کیچ سے حراست بعد لاپتہ ہونے والوں میں تربت ڈنک سے کمسن طالب علم براھمدگ، بالاچ، کیچ گوگدان سے اختر ولد ملنگ، احمد ولد ملنگ اور ایک عمر رسیدہ شخص غلام ولد چار شمبے، کیچ پھٹان کہور سے حراست بعد لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی شناخت عباس ولد علی، شہداد ولد حاجی عظیم، صغیر اسلم ولد محمد اسلم شامل تھیں –
حراست بعد لاپتہ ہونے والے شاہ داد ولد حاجی عظیم، عباس ولد علی، براھمدگ ولد موسی، انکے بھائی بالاچ اور حلیم محمد رفیق بازیاب ہوگئے ہیں –