چاغی: ریکوڈک منصوبے پر آگہی پھیلانے کی پاداش میں بی ایس او کارکنان کو دھمکیاں

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے چاغی میں بلوچ استحصالی منصوبہ ”ریکوڈک منصوبہ“ پر آواز اٹھانے اور لوگوں میں آگہی پھیلانے کی پاداش میں سیاسی کارکنان کو فوجی کیمپ بلا کر زبردستی دستخط لیے گئے اور سنگین آمیز دھمکیاں دی گئیں۔

چاغی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق وہاں سرگرم بی ایس او پجار کے زونل عہدیداروں کو آرمی کیمپ بلا کر بندوق کی نوک پر ان سے بلوچ طلبا تنظیم چھوڑنے کیلئے زبردستی استعفوں پہ دستخط لیے گئے، اور ان کو سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے یا تنظیم کے چیئرمین سے رابطہ رکھنے کی پاداش پر سخت دھمکیاں دی گئیں، ان کو سختی سے تنبیہ کیا گیا کہ وہ آئندہ چاغی میں ایسی کسی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بنیں گے، جس میں وہ لوگوں کو آگہی دے سکیں کہ ریکوڈک ایک بلوچ استحصالی منصوبہ ہے۔

جب اس سلسلے میں بی ایس او پجار کے مرکزی چیئرمین زبیر بلوچ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انکی تنظیم کے زونل عہدیداروں کو تنظیم چھوڑنے کیلئے زبردستی اور غیر آئینی طریقہ اپنایا گیا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے کارکنوں یا انکے کسی فیملی ممبر کو کوئی نقصان پہنچا تو اسکا ذمہ دار وہاں کا ضلعی انتظامیہ ہوگا۔

بی ایس او پجار کے چیئرمین زبیر بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر پہ اپنے ٹویٹس میں اس واقعہ پہ مزید تفصیل سے لکھا ہے کہ ” ریکوڈک میگا پروجیکٹ نہ صرف بلوچستان کے لوگوں کے استحصال کی وجہ ہے بلکہ بلوچ نسل کشی کی ایک نئی لہر ہے ہم ان زورآور قوتوں اور نادیدہ قوتوں پہ واضح کرنا چاہتے ہیں کے ہم جمہوری اور پرامن سیاست پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں لیکن اپنے سر زمین اور اپنے مادر ء وطن بلوچستان کی ملکیت اور حاکمیت سے دستبردار نہیں ہونگے۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ہم واضح انداز میں بتانا چاہتے ہیں کے ہمارے عہدیداران کے گھروں میں پرچیاں پھینکنے سے نہ ہی ہمارے حوصلے پست ہونگے اور نہ ہی زبردستی کچھ استعفوں سے یہ تحریک کمزور ہوگی، بلکہ اس عمل سے ان قوتوں کے عزائم دنیا کے سامنے واضح ہونگے۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ”اس وطن پہ جان نچھاور کرنے والے اس وطن کے سپوت ہے اور ہم نے اس بات کی حلف لی ہے کے اس وطن اور اس پر ہونے والے مظالم کے خلاف کھڑے رہیں گے، چاغی کے حالیہ واقعات اس بات کی تائید کرتے ہیں کے وہاں نادیدہ قوتیں جو بلوچ وطن کی لوٹ کھسوٹ کے لئے بندوق سمیت اپنے مذموم مقاصد کو پایہ تکمیل کو پہنچانے کیلئے بلوچستان پہنچے ہیں، ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے دوستوں سے بزور بندوق استعفیٰ لینا تمھارے کسی کام کا نہیں ہے، یہ ہمارے جرأت، عزم اور حوصلوں کو پست نہیں کرسکتا، ہم اپنے قومی شناخت پہ کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرتے ہیں، ریکوڈک جیسے بلوچ دشمن پروجیکٹس کی پرزور مخالفت کرینگے اور قومی شناخت پہ حملہ آور قوتوں کے خلاف ایک عوامی تحریک شروعات آج سے کرنے جارہے ہیں، لیکن ہمارے پرامن اور جمہوری رویوں کا ناجائز فائدہ نا اٹھایا جائے۔

Share This Article
Leave a Comment