بلوچستان میں سیلاب اور طوفانی بارشوں سے متاثر افراد کی مدد کے لئے کراچی میں قائم امدادی کیمپوں میں جہاں خواتین اور مرد حضرات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، وہاں کراچی سے تعلق رکھنے والے بچے اور بچیاں بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ امدادی کیمپوں میں بچے رضاکاروں کے طورپر سامان وصول کررہے ہیں وہاں بچیاں اور بچے بھی امدادی سامان ڈونیٹ کررہے ہیں۔
ملیر سے تعلق رکھنے والی سات سالہ زہرا نے اپنی سالگرہ کے موقع پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کے امدادی کیمپ کا دورہ کیا اور زہرا نے اپنی سالگرہ میں ملنے والے گفٹ اور پیسے سیلاب متاثرین کے لئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رضاکاروں کو ڈونیٹ کی۔ اسی طرح میمن گوٹھ ملیر کے ایک معذور بچے نے اپنا باکس بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رضاکاروں کو ڈونیٹ کیا۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں امدادی کمیپس قائم ہیں۔ امدادی کیمپس میں بچے اور بچیوں نے بھرپور طریقے سے شرکت کی۔ اور مدادی سامان اور نقدی رقوم جمع کروائے گئے۔ یہ کمیپس بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔ اس وقت کراچی میں بیس سے زائد امدادی کیمپس قائم ہیں۔ مرکزی کیمپ سلمان ٹاور، نزد ملیر کورٹ کے قریب قائم ہے جبکہ جمعہ گوٹھ، ملا عیسیٰ گوٹھ، غازی ٹاؤن،نیو شفیع گوٹھ، فقیر کالونی، کلری، میمن گوٹھ، جوہر موڑ،ابراہیم حیدری، صائمہ گرین سٹی، فائیو اسٹار ٹاور لیاری، کوہی گوٹھ، شرافی گوٹھ اور صالح محمد گوٹھ میں بھی امدادی کیمپس قائم ہیں۔ کمبل، کپڑے، لحاف، گھی، چاول، دال، چینی، سمیت دیگر اشیا سمیت نقدی رقوم بھی جمع کروائے جارہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کے رضاکار ضلع لسبیلہ میں امدادی سامان تقسیم کرنے میں مصروف ہیں۔