بلوچستان حق دو تحریک کے قائد جماعت اسلامی کے بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ساحل،بارڈرزپرقبضہ مافیا کا قبضہ ہے۔بلوچستا ن کے عوام جائز کاروبارسے محروم،ساحل ہر فشریز، بارڈرزپر سیکورٹی فورسزکے ناجائزٹیکسزومظالم کا شکار ہیں ہر طرف لوٹ مار جاری عوام کا کوئی پوچھنیوالا نہیں۔حق دوتحریک حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیے گی ہم خاموش نہیں رہیں گے بلکہ حقوق لیکر ہی رہیں گے۔بلوچستان کے عوام پربھتہ مافیاز،لٹیرے مسلط ہیں جو عوام پر خرچ کرنے کے بجائے بلوچستان سے ہڑپ کر رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے گوادر میں عید ملنے والوں بعدازاں احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاکہ بلوچستان کی زراعت،بارڈ راور ساحل کاروبار پرتوجہ دیکر صوبے میں غربت بے روزگاری کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے ظالموں کا راستہ روک کر ہم اس ملک میں اسلامی نظام قائم کریں گے۔سرکاری بنجر زمینوں کو غریب عوام میں تقسیم کرکے غربت روزگاری کا خاتمہ کیا جائے بلوچستان میں غربت،بے روزگاری،بدعنوانی دوسروں صوبوں سے زیادہ ہے امیروں وغریبوں کیلئے الگ الگ پاکستان قبول نہیں جو سہولیات امیروں کو میسر ہووہی غریبوں کیلئے بھی لازمی کیاجائے۔
بدقسمتی سے ملک میں غریب وامیر کیلئے الگ نظام ہے۔غریب اسمبلی جائیگا تو غریب کی تقدیر بدلیگی غریب عوام نے سرمایہ داروں،ظالم طبقے کا ساتھ دیکر ان کے سرمایے میں اوراپنے مسائل میں اضافہ کردیا باربارووٹ لیکر کامیاب ہونے والوں نے غریب عوام،بے روزگار نوجوانوں کیلئے کچھ نہیں کیا منشیات،بے روزگاری،بدعنوانی وغربت کے خاتمے اوراسلامی نظام کے قیام کیلئے جماعت اسلامی جدوجہد کر رہی ہے۔حق دوتحریک ہی مسائل کو حل کرسکتی ہے۔عوام حق دو تحریک کا ساتھ دیں تاکہ لٹیروں کی لوٹ مار ختم اور دیانت دار لوگ سامنے آجائیں اور عوام کے قانونی حقوق مل سکیں عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہونے سے مسائل حل ہوسکتے ہیں جماعت اسلامی لٹیروں کے خلاف اسلامی حکومت کے قیام کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔حق دوتحریک،جماعت اسلامی کے ممبران اسمبلی اللہ کے رحمت کا فرشتہ بن کر مسائل ومشکلات سے نجات دلائیگی۔
بدقسمتی سے بلوچستان میں بھی وہی ناکام نااہل لوگ وپرانی ٹیم مسلط ہیں جس کی وجہ سے عوام کے مسائل میں اضافہ ہورہاہے۔ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے بلوچستان کے نوجوانوں،مسائل ومشکلات کو نظراندازکرنے سے حالات روزبروزخراب،پریشانیوں میں اضافے کیساتھ نوجوانوں میں احساس محرومی،ردعمل اورنفرت پیدا ہورہی ہے۔بلوچستان کے عوام کو تحفظ روزگار اور عزت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔منتخب نمائندوں وجماعتوں نے ہمیشہ عوام کو مایوس کیاہے۔چہروں کے بجائے نظام کی وجہ سے عوام کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔