‏شے مرید اور اس کی حانی | نوید اولیاء

ایڈمن
ایڈمن
10 Min Read

‏جب تک زندہ ہیں، موت کی پرواہ کئے بغیر سروں کو قربان کرتے رہیں گے، اپنی سرزمین کی آزادی اور تہذیب سے نا آشنا دشمن کو بے دخل کرنے تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔

‏عصر کا وقت تھا، سورج کی درخشاں روشنی، آسمان کے بدن پر نیلا رنگ چھا گیا تھا۔۔۔۔ میں اپنے خیالوں کی دنیا میں مگن سنکناتے ہوئے ہوا میں اسطرح محسوس کیا کہ ہوا ایک گیت (زھیرونک) گنگنا رہی ہے، خیالوں بھری اس لمحے مجھے نورخان بزنجو کا یہ گیت یاد آیا

‏”زہیر ءُ ترانگ چہ واب ءَ پاد کایاں
‏دوست ءُ دلبر کہ مارا یات کایاں”

‏جس طرح ہوا میرے کانوں میں سرگوشی کر رہی ہے لیکن میں اسے سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ مجھ سے کیا اظہار کرنا چاہ رہی ہے؟ میں اپنے خیالوں کی ایک الگ دنیا میں محو سفر تھا اچانک میرے میرے موبائل کی گھنٹی بجی دیکھا تو ایک دوست نے وٹس ایپ کیا کہ آج قبضہ گیر پاکستانی افواج نے مزن بند کے پہاڑوں میں آپریشن کیا جس میں ایک بلوچ سرمچار مادروطن پہ خود کو نچاورکیا۔ میسج پڑھنے کے بعد میری آنکھوں میں اندھیرا سا چھا گیا اور چلتی ہوئی ہوا بدستور مجھ سے سرگوشی سے کررہی تھی۔ ہوائیں کیا کہہ رہی تھیں میں ان سے بے خبر اپنے دل کو یہ تسلّی دی کہ شاید یہ ریاست کے پالے گئے مخبر ہیں اپنے دل کو خوش کرنے کیلئے ہمیشہ جھوٹی خبریں پھیلاتے رہتے ہیں۔

‏دوست نے دوبارہ مجھے میسج دے کر حال پوچھا، میں نے انہیں جواب میں کہا کہ مجھے معلوم نہیں ہوسکتا ہے کہ یہ بات جھوٹ ہو، ویسے تو اسطرح کی بے بنیاد خبریں گردش کرتی رہتی ہیں، کچھ لوگ اپنی خوشنودی کیلئے جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں۔
‏لیکن مجھے چھین نہیں آ رہا تھا دل نے چاہا کہ دوستوں سے معاملات کے بارے میں پوچھ ہی لوں۔ چنانچہ ہمت کرکے دو تین دوستوں سے پوچھا کہ ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسی کوئی خبر نہیں سنی، البتہ دوپہر کو فضا میں فوجی ہیلی کاپٹر پہاڑوں کی جانب گردش کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں مگر صبح دوستوں سے رابطہ ہوا ہے سب کچھ ٹھیک ہیں شاید یہ خبر جھوٹ ہے۔

‏دوستوں سے حال احوال پوچھنے کے بعد غمزدہ دل میں ٹھنڈک اور اندھیری آنکھوں پر شمع روشن ہوئیں لیکن اسکے باوجود اس بُری خبر نے مجھے اس حد تک پریشانی میں مبتلا کیا تھا، کہ دل کو تسلی دینے کے لیے میں نے اپنے علاقے میں فون کرنے کی کوشش کی لیکن سارے نمبرز بند تھے، کیونکہ میں بذات خود پردیس میں ایک مہاجر کی طرح زندگی بسر کر رہا ہوں یہاں کوئی حال پوچھنے والا نہیں، ہر ایک اپنی دنیا میں مگن ہے۔

‏مغرب قریب تھی سورج غروب ہونے والا تھا، لوگ انتظار میں تھے کہ کل رمضان شریف ہے۔ میں نے دل میں ارادہ کر لیا تھا کہ روزہ رکھ لوں تاکہ اس مبارک مہینے میں اپنی گناہوں کی مغفرت اور ثواب دارین حاصل کرنے کا موقع حاصل کر لوں، ایک لمحہ گزرتے ہی وٹس آپ پر میسج "مبارک ماہ رمضان” موصول ہونا شروع ہوا اور میں بھی انکو جوابی پیغام دیتا رہا۔ رمضان کے آنے کی خوشی میں میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ چھا گئی تھی کہ ایک اور میسج موصول ہوا،
دیکھتے ہی میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہونا شروع ہوئیں، کیا کریں بدنصیب قسمت، میری مسکراہٹ درد و غم میں بدل گئے، میسج میں سرزمین کے شیدائی شئے مرید کی تصویر اور نام درج تھا، دیکھتے ہی دیکھتے سینے سے درد بھری آہ۔۔۔۔۔نکل گئی، دل اور جگر کو کسی نے بدن سے نکال کر زیر زمین دفن کردیا، جسم کی رگوں میں خون کی روانی بند ہوگئیں، پورا جسم کانپنے لگا، پسینے سے بدن شرابور ہونے لگا، درد بھری کیفیت میں اس طرح مبتلا تھا کہ دوست کے میسج کا جواب نہ دے سکا، بس میری آنکھیں شے مرید کے نام اور تصویر پر جمی ہوئی تھیں، میرا دماغ اس بات کو ایک سرمچار کی طرح بغاوت کرتے ہوئے بالکل قبول کرنے کو تیار نہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ شئے اس وقت ہمیں چھوڑ کر الوداع کرسکتا ہے، کیونکہ سرزمین بلوچستان کو اس ناخوشگوار صورتحال میں شئے مریدوں کی اشد ضرورت ہے، اور دوستوں نے بھی مجھے بتایا تھا کہ گردش کی ہوئی اس خبر میں کوئی صداقت نہیں یہاں سب کچھ ٹھیک ہے، میں شئے مرید بن کر ایک مجنون کی طرح بالکل اس بات پر یقین نہیں کر رہا تھا۔
کچھ دیر بعد ‏میں نے دوست کے میسج کے جواب میں لکھا کہ یہ تصویر شئے مرید کی نہیں بلکہ کسی اور کی ہے، میسج میں شئے کا نام لکھا ہے لیکن بالکل یہ شئے مرید نہیں کیونکہ ابھی کچھ دیر پہلے میرا دوستوں سے رابطہ ہوا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں یہاں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ خیر میں نے کنفرمیشن کیلئے دوسرے دوستوں کو بھی تصاویر بھیج دیئے لیکن سارے دوست میری طرح اس بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھے، اس بدنصیب مسیج نے پورج کائنات میرے لئے تنگ کر رکھا تھا، اس وقت ایسا لگ رہا تھا جیسے ہوا دم سادھ لے رہی ہے، فضا نے اپنی کشادگی میرے اردگرد ایک چادر کی طرح لپیٹ رکھی تھی اور میی ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا، جب کچھ لمحے بعد ہوش و حواس بحال ہوا تو میں خود سے سوال کرنے لگا کہ یہ شے مرید کی تصویر کیسے ہوسکتا ہے؟ شئے تو حانی(مادروطن) کی آجوئی کے لئے ابھی کچھ عرصہ پہلے پہاڑوں کا رخ کر چکا ہے، اتنی جلدی وہ کیسے ان پہاڑوں کو الوداع کرسکتا ہے؟ جب تک وہ حانی کو اغیار کے ہاتھوں آزادی دلا نہ دے۔
‏میں اس بدنصیب خبر کی تصدیق کیلئے شئے مرید کے قریبی ساتھیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان میں بھی کچھ دوستوں نے خبر کی تصدیق کی مگر بیشتر دوست اس بات پر متفق نہیں تھے کہ شیھُو داعی اجل کو لبیک کہہ چکاہے ، کیونکہ انکے دل اس بات کو کسی بھی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں تھاکہ وطن کا مرید حصول مقصد سے پہلے رخصت ہوسکتاہے۔
‏آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیھُو۔۔۔۔۔۔۔۔ سرزمین کا فرزند، حانی کا شئے مرید۔

‏ملکموت مستیں لیڑھے بوتیں
‏بُرتیں ماں کور ءَ جْور بہ چارینتیں۔

‏موت اگر ایک بدمست اونٹ ہوا ہوتا
‏تو انکو ندی میں لیجا کر جور کے پتے چرا دیتے۔

‏آہ۔۔۔ خدا کرے اس خبر میں کوئی صداقت نہ ہو۔۔۔ لیکن بعد میں بلوچی نظم کے دو بند یاد آئیں

‏پہ ھانلیں گلزمین ءِ بانوری ءَ
‏باریں چُنت شے مرید سالونک بیت۔

‏حانی (بلوچستان) کو دلہن (آزادی) بنانے کیلئے نہ جانے کتنے شئے مریدوں کو دلہا (شہید) ہونا پڑے گا۔

‏اندھیری رات نے شاخیں پھیلا دیئے چاروں اطراف میں تاریکی چھا گئی، میں ادھر ادھر دوستوں سے رابطے میں رہا تاکہ کسی نہ کسی طرح معلوم کرلوں، لیکن مجھے اب زیادہ تر یہ جواب موصول ہونے لگے کہ شئے مرید اپنی سرزمین کی آزادی کیلئے دشمن فوج کے ساتھ دو بہ دو بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرچکا ہے، وہ اب دلہن بنا ہے، وہ ہمیں اب ہمیشہ کیلئے الوداع کہہ کر اپنے دیئے گئے ذمہ داریوں کو نبھا کر ایک وفادار فرزند کی طرح اپنے مادر وطن کی آغوش میں آرام کی نیند سو رہا ہے۔
‏سینے سے درد بھری آہیں نکلنے لگیں، خیر شئے مرید حانی کیلئے اپنے کئے گئے وعدے پر پورا اتر کر سرزمین کے اصل فرزند ہونے کا ثبوت دیا، آرام اور آسائش سے بھری اپنی جوانی کی زندگی کو مادر وطن کی آزادی پر ترجیح دے کر اس بھاری بوجھ کو اپنے دوستوں کے کندھوں پر ڈھال کر مزن بند کے پہاڈوں میں دشمن فوج کے ساتھ جوان مردی سے نبرد آزما ہوکر ایک تاریخ رقم کرکے یہ پیغام دیا کہ شئے مرید نے حانل کو دشمن کے ہاتھوں با آسانی جانے نہیں دیا۔

‏شے مرید!
‏میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں تمہاری توصیف کرسکوں، بس میں اپنی اس مختصر سی تحریر میں بلوچی شعر کے ایک دو بند آپ کیلئے لکھتا ہوں۔

‏بیا او مرید، بیا او مرید
‏بیا او مرید۔۔۔۔ دیوانگیں!

‏بیا بیا کہ دیوانے کن اوں
‏مولانگ ءُ مستانگیںِ

***

Share This Article
Leave a Comment