بلوچستان کے ایران سے منسلک سرحدی علاقے نوکنڈی میں تفتان آل پارٹیز کی جانب سے بلوچستان ایران بارڈرز راہداری گیٹ ودیگرکاروباری پوائنٹس کی بندش کے خلاف پہیہ جام ہڑتال سے تفتان ٹو کوئٹہ شاہراہ تمام ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا۔
احتجاج کی قیادت آل پارٹیز کے رہنماوں حاجی اللہ بخش محمد حسنی حاجی قادربخش نوتیزی مولوی نجیب اللہ حاجی شاہ میرمحمدانی حاجی عیسی خان شیرزئی چیئرمین نواب خان موسی زئی میرعلی خان عیسی زئی اورسیندک کے قبائلی رہنمامیرمدت خان سمالزی زئی کررہے تھے جبکہ احتجاج کے دوران تفتان سے باہر اور باہرسے تفتان آنے والے گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی تھی۔
اسسٹنٹ کمشنرتفتان ظہوراحمدمظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے لئے احتجاج میں پہنچ گئے مگر مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج ختم نہ کرنے کاکہا مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 3 بجے پھر اسسٹنٹ کمشنرکے دفتر میں شروع ہوئے جہاں اسسٹنٹ کمشنر تفتان نے ایک مہینہ کی مہلت مانگی اور یقین دہانی کرانی کہ میرے پاس اختیارات نہیں حکام بالا کو تمام صورتحال سے آگاہ کرکے مطالبات سامنے رکھونگااوراپنی طرف سے پوری کوشش کرونگا کہ آپکے مطالبات پورے کئے جائیں۔
مظاہرین کے سرکردہ رہنماؤں نے ایک مہینہ تک احتجاج موخرکرتے ہوئے کہاہے کہ اگر ایک مہینہ تک راہداری گیٹ 78 کاروباری گیٹ اوردیگرایران بارڈر سے منسلک پوائنٹس نہیں کھولے گئے تو پھر ہم غیرمہینہ مدت کے لئے سخت ترین احتجاج کرکے پہیہ بھی جام کریں گے اورپاسپورٹ گیٹ ایریگیشن گیٹ سب بند کریں گے کیونکہ ایران سے منسلک صدیوں سے چلے کاروباری اورسفری گیٹس بندہونے سے ایک طرف تفتان کے لوگ نان شبینہ کے معتاج ہوگئے ہیں دوسری جانب ایران میں مقیم اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے بھی قانونی طورپر راہداری گیٹ کو بھی نہیں کھولا جارہا جوکہ ہمارے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہاکہ فوری ہمارے جائز مطالبات کو حل کیاجائیں۔