بحرہ بلوچ میں غیر قانونی فشنگ کیخلاف گوادر میں گوادر ماہیگیر اتحاد کی جانب سے موٹر سائیکل ریلی نکالی گئی۔
موٹر سائیکل ریلی کا آغاز ملا موسی موڑ سے ہوا جو فش ہا ربر روڈ، میرین ڈرائیو،استاد عبدالمجید گوادری روڈ اور سید ظہورشاہ ہاشمی ایونیو اور ایئر پورٹ روڈ سے ہوتا ہوا گوادر پریس کلب کے سامنے اختتام پذیر ہوا۔
احتجاجی ریلی میں ماہیگیروں سمیت مختلف پارٹیوں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے گوادرماہیگیر اتحادکے رہنما اور بی این پی مینگل کے مرکزی ماہیگیر سیکر یٹری خداداد واجو، آل پارٹیزاتحاد کے کنوینر مولابخش مجاہد،بی این پی کے رہنما کہد ہ علی، گوادر ماہیگیر اتحاد کے رہنما ناخدا رسول بخش کوچ اور یونس انور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرالنگ نے سمندر کو بانجھ بنادیا ہے۔ٹرالروں کے نمائند ے مختلف اداروں میں ہو نے کے سبب ادارے ٹرالروں کی روک تھام میں ناکام ہو چکے ہیں اور جسکا خمیازہ ماہیگیر بھگت رہے ہیں۔ محکمہ فشریز کو جدید بوٹ دیا جائے تاکہ وہ ٹرالروں کی روک تھام کرکے سمندر کو ٹرالروں سے پاک کردیں لیکن محکمہ فشریزکے خراب و خستہ حال بوٹوں کو مرمت کے نام پر پیسہ ہڑپ کرنے کا منصوبہ بنایا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سمندر ہما را روزگار ہے ہم سمندر کے تحفظ کے لئے گوادر ماہیگیر اتحاد نے ماہیگیروں کے ساتھ ملکر جدوجہد کرکے قربانی دی ہے لیکن حق دو تحریک کے نام سے بنائی گئی تحریک ماہیگیروں کی جدوجہد اور اسکی قربانیوں کو سبوتاژ کررہی ہے۔
مقررین نے کہا کہ ماہیگیر اتحاد نے اس وجہ سے اس تحریک کی حمایت نہیں کی کہ وہ ماہیگیروں کے خلاف محاذ شروع کریں۔ سمندر کے اندر تیل و ڈیزل کا کاروبار سمندری حیات کو ختم کرنے کا مترادف ہے کیونکہ ڈیزل ایک کیمیکل نما چیز ہے جو سمندر کو برباد کرنے کا سبب بن سکتاہے لیکن یہ تحریک سمندر کے اندر ڈیزل و تیل کے کاروبار کرنے کا مطالبہ کررہی ہے جسکو ہم ایک ماہیگیروں کیخلاف سازش سمجھتے ہیں۔ اسی تحریک نے اپنے دھرنے کے اندر بارڈروں پر ٹوکن سسٹم کا خاتمہ و ایف سی کی بے دخلی کا مطالبہ کیا تھا لیکن آج اسی تحریک کے سربراہ نے اپنے لوگ بٹھاکر بارڈر پر کام کرنے والوں کو ٹوکن دے رہے ہیں۔
انہوں نے کھاکہ رات کے تین بجے تحریک کے سربراہ کس سے ملنے گئے اور اسکے پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے کیوں ملاقات کی ہے یہ سب سوال ہیں۔ لیکن جو کاز و تحریک ماہیگیر تنظیموں اور ماہیگیروں کے خلاف استعمال ہو گا تو ہم انکے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہیں گے۔
مقررین نے کہاکہ ماہیگیر کسی طور بھی کسی کو سمندر کے اندر ڈیزل کا کاروبار کرنے نہیں دیگی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئدہائیوں سے ماہیگیروں کیلئے کالونی بنانے کا اعلان کیاگیا ہے لیکن ماہیگیروں کیلئے تاحال کالونی نہیں بنائے گئے بلکہ اس کالونی کو ادارے بااثر افراد کے زریعے قبضہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے کھاکہ ادارے نااہل ہو چکے ہیں وہ ماہیگیر کالونی کی تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کررہے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ چائنہ کے جانب سے بھیجے گئے سولروں کو گوادر کے مقامی افراد کو دینے کے بجائے گوادر پر قبضہ کرنے والے قابضین کو دینے کی کوشش کی جارہی ہے جسے ماہیگیر اتحاد کسی طور پر برداشت نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ مافیا ماہیگیروں کیلئے ائل و مشکلات پیدا کررہے ہیں لیکن ہم اس احتجاج کے توسط سے انکو بتا دینا چاہتے ہیں کہ سمندرہما را روزگار ہے ہم نے پہلے بھی ماہیگیری کی۔ آج بھی کررہے ہیں اور مستقبل میں بھی کرینگے لیکن جو مافیا ماہیگیروں کیخلاف استعمال ہو گی انکے خلاف ہم ضرور احتجاج کرینگے۔