روس کی ہمسایہ ملک یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی پانچویں روز میں داخل ہو گئی ہے اور یوکرینی دارالحکومت کیئو اور خارخیو سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ یوکرین کے صدر نے روسی حملے کے حوالے سے آئندہ 24 گھنٹوں کو انتہائی اہم قرار دیا ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے روس کے یوکرین پر حملے پر بات چیت کرنے کے لیے ایک غیر معمولی اقدام میں جنرل اسمبلی کا خصوصی ہنگامی اجلاس طلب کرنے کے لیے ووٹنگ کی ہے۔
یہ اجلاس آج پیر کو بلوایا گیا ہے جس میں 193 ممبر مماالک کو روسی حملے پر اپنے رائے دینے کی اجازت دی جائے گی۔
روس نے اس اجلاس کی مخالفت کی تھی لیکن اقوام متحدہ کی ایک خاص قرارداد کے تحت وہ اسے ویٹو نہیں کر سکتا تھا۔
اقوام متحدہ کی اس قرارداد جسے ’یونائٹنگ فار پیس‘ یعنی امن کے لیے کھٹا ہونے کا نام دیا گیا ہے کے مطابق وہ سکیورٹی کونسل کے ممبر ممالک کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر اس کے پانچ مستقل ممبران (روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور چین) امن کو کیسے قائم کیا جائے اس پر متفق نہ ہو سکیں تو وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلوائیں۔
یوکرین میں آج صبح کا آغاز فضائی حملوں کے سائرن اور دھماکوں سے ہوا۔
دارالحکومت اور ملک کے دیگر شہروں میں رات بھر مزید دھماکوں کی اطلاعات آئی ہیں۔
یوکرین کا دعویٰ ہے کہ اس کے فوجی کیؤ کے مضافات میں روسی فوجیوں کے کئی حملوں کو پسپا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
مسلح افواج کے کمانڈر کرنل جنرل الیگزینڈر سیرسکی نے تقریباً ایک گھنٹہ قبل جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ کس طرح بن بلائے مہمانوں سے اپنے گھر کی حفاظت کر سکتے ہیں۔‘
یوکرین کے مشرق میں خارخیو سے بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔
یوکرین کی قومی خبر رساں ایجنسی (یوکرینفارم) کے مطابق ایک روسی میزائل نے چرنیہیو میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا ہے۔
اس وقت عمارت کی نچلی دو منزلوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔
ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی جوہری فورسز کو ’خصوصی‘ الرٹ پر رکھیں۔
روس کے سربراہ پہلے ہی دبے الفاظ میں خبردار کر چکے ہیں کہ وہ یوکرین پر حملے کے آغاز میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر رضامند تھے۔
گذشتہ ہفتے وہ خبردار کر چکے ہیں کہ ’جس نے بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی‘ اسے ان نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو آپ نے ماضی میں نہیں دیکھے ہوں گے۔
پوتن کے ان الفاظ کو بڑے پیمانے پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔
’خصوصی‘ الرٹ پر رہنے کا حکم ماسکو کی جانب سے وارننگ جاری کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
’خصوصی‘ الرٹ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہتھیاروں کو لانچ کرنا آسان ہو گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ صورتحال میں ان ہتھیاروں کے استعمال کا ارداہ ہے۔
روس کے پاس دنیا بھر میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار موجود ہیں لیکن اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ اگر اس نے ان کو استعمال کیا تو نیٹو کے پاس روس کو تباہ کرنے کے لیے بھی کافی ہتھیار موجود ہیں۔
لیکن پوتن کا مقصد خوف پیدا کر کے یوکرین کے لیے نیٹو کی حمایت کو ختم کرنا ہے اور وہ اس حوالے سے ابہام پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ یوکرین کو ملنے والی کتنی حمایت ان کے لیے ایک حد سے زیادہ ہو گی۔