یوکرین میں جنگ جاری، جوہری پلانٹ پر روس کا قبضہ، اب تک 137 افراد ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

یوکرین پر روسی حملہ دوسرے روز میں داخل ہو چکا ہے۔یہ یورپ میں کئی دہائیوں کے بعد پہلی زمینی جنگ ہے۔

کیؤ میں جمعے کو علی الصبح متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور یوکرینی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے دارالحکومت میں ایک طیارہ مار گرایا ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ’تخریب کار‘ دارالحکومت میں داخل ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ ملک بھر میں مختلف جگہوں پر جھڑپیں جاری ہیں جس میں سے ملک کے مشرق میں خارخیو میں شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ ملک کے شمال اور بحیرہ اسود کے جنوب میں اوڈیسا میں شہروں میں لڑائی کی اطلاعات ہیں۔

اس دوران ایک لڑائی چرنوبل کی جوہری تنصیبات کے قریب بھی ہوئی جہاں روسی فورسز کو کامیابی ہوئی اور امریکہ کا کہنا ہے کہ یہاں کچھ یوکرینی فوجیوں کو روس کی جانب سے یرغمال بھی بنایا گیا ہے۔

ہزاروں یوکرینیوں نے جنگ زدہ علاقوں میں شہروں کو چھوڑنا شروع کر دیا ہے اور اب وہ ملک کے مغرب میں موجود علاقوں کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں اور کچھ تو پولینڈ اور رومینیا کی سرحدوں کی جانب بھی گامزن ہیں۔

تاہم زیادہ تر یوکرینی شہریوں نے یہیں رکنا بہتر سمجھا ہے اور انھوں نے بنکرز اور زیر زمین میٹرو سٹیشنز میں پناہ لی ہے۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے ملک بھر میں ان تمام شہریوں سے کہا گیا ہے جو اسلحہ چلانا جانتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے سامنے آئیں۔

یورپی یونین، آسٹریلیا اور جاپان نے جمعے کو روس پر تازہ پابندیاں عائد کی ہیں جن میں روسی بینکوں، کمپنیوں اور روسی حکومت سے منسلک اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مغربی ممالک نے یوکرینی فوجیوں کو امداد اور فوجی سازوسامان دینے کا وعدہ کیا ہے۔

فرانس کے صدر میخواں کا کہنا ہے کہ انھوں نے فون پر ولادیمیر پوتن سے بات کی ہے اور ان سے ’حملہ روکنے کا کہا ہے۔‘

دوسری طرف روسی شہروں میں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے اور اس دوران سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یوکرین پر روسی حملے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھر چھوڑ کر جا رہے ہیں اور جو لوگ شہرنہیں چھوڑ سکے وہ بم شیلٹر میں پناہ لے رہے ہیں۔

ہمیں جمعے کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیؤ میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اس حوالے سے مزید غیر مصدقہ خبریں بھی رپورٹ کی جا رہی ہیں کہ شہر کا ایئر ڈیفنس ایک فضائی حملہ روکنے میں کامیاب ہوا ہے جس میں متعدد میزائلوں کو تباہ کیا گیا ہے اور ایک روسی طیارہ مار گرایا گیا ہے۔

یوکرین کی وزارتِ داخلہ کے اہلکار نے بتایا ہے کہ طیارہ کیؤ کے دارنتسکی ضلع میں مار گرایا گیا ہے۔

دریں اثنا مقامی اطلاعات کے مطابق ایک نو منزلہ عمارت میں بھی آگ لگی ہوئی ہے۔

کیؤ کے میئر وٹالی کلٹشکو نے ٹویٹ کیا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم از کم تین افراد راکٹ کے ٹکڑے لگنے کے باعث زخمی ہو چکے ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت عمارت میں آگ لگی ہوئی ہے اور اس کا ’زمین بوس ہونے کا خطرہ ہے۔‘

یوکرین کی وزارتِ داخلہ میں ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ایک روسی طیارہ دارالحکومت کیؤ کے دارنتسکی ضلع پر مار گرایا گیا ہے۔

اینٹون ہیرا شینکو کا کہنا ہے کہ یہ طیارہ ایک گھر کے نزدیک 7 اے کوشتیا سٹریٹ میں گرا۔

یہ غیر تصدیق شدہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کے دارالحکومت میں دو دھماکے رپورٹ کیے گئے تھے۔

ایسے ہی دھماکے اس سے قبل جمعرات کے روز بھی رپورٹ ہوئے تھے جب یوکرینی حکام نے بتایا تھا کہ کیؤ کے قریب بروویری نامی ٹاؤن میں فوجی اڈے کو روسی کروز میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

نیوز چینل ٹیلی کنال این ٹی اے نے ایک تصویر پوسٹ کی جس میں صبح کے وقت دھواں اٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک ٹیم نے کیؤ کے وسطی علاقے میں دو بڑے دھماکوں کی خبر دی ہے جبکہ جمعے کی صبح ہی ایک تیسرے بڑے دھماکے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

یوکرینی خبر رساں ایجنسی یونیان کے مطابق سابق ڈپٹی وزیرِ داخلہ اینٹون ہیراشینکو کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو دھماکوں کی آواز سنی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کروز یا بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔

یوکرین کی فوج نے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے جوہری پاور پلانٹ چرنوبل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

یوکرین کے صدارتی معاون نے اسے ’بے معنی حملہ‘ کہا ہے جو ’آج یورپ کو درپیش سب سے بڑے خطروں میں سے ہے۔‘

1986 میں چرنوبل پر انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جوہری حادثہ ہوا تھا۔

یوکرین کے صدر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر روس نے حملہ جاری رکھا تو ایسا حادثہ دوبارہ ہوسکتا ہے۔ ولادیمیر زیلنسکی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’ہمارے محافظ اپنی جانیں دے رہے ہیں تاکہ 1986 کا سانحہ دہرایا نہ جائے۔‘

یوکرین کی وزارت خارجہ نے متنبہ کیا ہے کہ اس مقام پر ایک مزید جوہری حادثے کا امکان موجود ہے۔ گذشتہ 36 برسوں سے چرنوبل کے اردگرد 32 کلومیٹر کے علاقے میں شہری آبادی نہیں ہے۔

36 سال قبل اس کے ری ایکٹر میں خرابی کی وجہ سے ایک بڑا دھماکہ ہوا تھا جس سے جانی و مالی نقصان ہوا۔

سال 2000 کو اس کے تین بقیہ ری ایکٹرز بند کر دیے گئے تھے۔ 1986 کے واقعے کے بعد سے اس علاقے میں تابکاری کی سطح خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی فوجی حملے کے پہلے روز ان کے ملک میں 137 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں فوجی اور سویلین دونوں شامل ہیں۔

انھوں نے عوام کو متحرک کرنے کے لیے ایک حکمنامے پر دستخط کیے ہیں جس کے ذریعے 90 دنوں کے لیے فوج میں نئے لوگوں کو بھرتی کیا جائے گا اور ریٹائرڈ یا ریزو فوجیوں کو واپس بلایا جائے گا۔

ادھر یوکرین میں سٹیٹ بارڈر گارڈ سروس نے کہا ہے کہ 18 سے 60 سال عمر کے مردوں پر ملک سے باہر جانے پر پابندی ہوگی۔

Share This Article
Leave a Comment