امریکا کے محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے کہ یوکرین پر روس کا حملہ کیف میں حکومت کا ”سر کاٹنے“کے لیے ہے۔
پینٹاگون کے ایک سینیرعہدہ دار نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا:”ہمارا اندازہ یہ ہے کہ روس بنیادی طور پرحکومت کا ”سر قلم“کرنا چاہتا ہے اوروہ یوکرین پر اپنے حامی حکمران مسلط کرنے کا ارادہ رکھتاہے“۔
جمعرات کو علی الصباح روسی صدر ولادی میر پوتین نے یوکرین میں نام نہاد خصوصی آپریشن کا اعلان کیا تھالیکن یوکرینی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ ”یہ صرف یوکرین کے مشرق میں روسی حملہ نہیں،بلکہ متعدد سمتوں سے مکمل حملہ ہے“۔
امریکا کے دفاعی عہدے دار نے کہا کہ دنیا نے”بڑے پیمانے پر حملے کے ابتدائی مراحل“مشاہدہ کیے ہیں۔”ابتدائی حملے“کے دوران میں روس نے100 سے زیادہ میزائل داغے ہیں۔انھوں نے مزید75 روسی لڑاکا طیاروں کا حوالہ دیا ہے۔
امریکی صدرجو بائیڈن یوکرین کے بحران پر رات 12 بجے (ای ایس ٹی) کے فوراً بعد خطاب کرنے والے ہیں۔توقع ہے کہ وہ روس کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدربائیڈن نے گروپ سیون کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور ان سے ”یوکرین پر صدرپوتین کے بلااشتعال اور بلاجوازحملے کے خلاف ”مشترکہ ردعمل“پرتبادلہ خیال کیا ہے۔
بائیڈن نے اپنی قومی سلامتی کونسل کے ارکان سے بھی ملاقات کی ہے اور ان سے یوکرین کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
امریکا نے قبل ازیں منگل کے روز یوکرین پرماسکو کے حملے کے جواب میں روس پر پابندیوں کی ”پہلی قسط“کا اعلان کیا تھااورملک کے خود مختار قرضوں کے لیے مغرب کی مالی اعانت کو ختم کردیا تھا۔