یوکرین کی فوج اور روس کے حمایت یافتہ باغیوں کے درمیان تین دن سے جاری جھڑپوں میں یوکرین کے دو فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
یوکرین کے صدر نے کہا ہے کہ ان کا ملک اشتعال انگیزی کا جواب نہیں دے گا۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مشرقی علاقوں میں روسی حمایت یافتہ باغیوں سے لڑائی میں شدت دیکھی گئی ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مغربی رہنماوں سمیت دنیا بھر کو پیغام دیا ہے کہ ان کا ملک روس کی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرے گا۔
مغربی ممالک کی جانب سے روس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ یوکرین کے مشرقی علاقوں میں بحران پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے باقاعدہ حملے کا جواز مل سکے۔
ادھر جرمنی کے شہر میونخ میں سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کے دوران یوکرین کے صدر نے کہا کہ یوکرین کے لوگ اپنی زندگی جینا چاہتے ہیں اور اس وقت وہ خوف و ہراس کا شکار نہیں ہیں۔
یوکرین کے صدر نے مغربی رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ ماسکو کے ساتھ ’اپیزمنٹ کی پالیسی‘ اپنائے ہوئے ہیں یعنی وہ ماسکو کے جارحانہ رویے کے باوجود اس کے ساتھ نرم رویہ اپنائے ہوئے ہیں، اس امید میں کہ روس ان کے خدشات کے برعکس جارحیت روک دے گا۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو تحفظ کی نئی یقین دہانیاں دی جائیں۔
واضح رہے کہ یوکرین کے صدر کو امریکی حکام کی جانب سے تنبیہ کی گئی تھی کہ اس وقت ان کا ملک چھوڑنا خطرے سے خالی نہیں لیکن ان وارننگز کے باوجود انھوں نے میونخ کی سیکیورٹی کانفرنس میں حصہ لیا۔
یوکرین کے صدر کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا گیا جب مبصرین کے مطابق مشرقی یوکرین میں حکومتی افواج اور باغیوں کو تقسیم کرنے والی سرحدی لائن پر حملوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔
مبصرین کے مطابق صرف سینیچر کے دن ہی یوکرین سے علیحدہ ہو جانے والے ڈونیٹسک اور لوہانسک علاقوں میں 1400 دھماکے ہوئے۔
یوکرین کے وزیر داخلہ ڈینس موناسٹرسکی کو بھی فرنٹ لائن کا دورہ کرتے ہوئے اچانک گولہ باری کے باعث محفوظ پناہ گاہ میں چھپنا پڑا۔
باغیوں کی خود ساختہ ریپبلک آف ڈونیٹسک اور لوہانسک میں تمام شہریوں کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ روس کی جانب انخلا کر جائیں جب کہ ایسے تمام افراد جو لڑ سکتے ہیں انھیں تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔
ان احکامات کے باوجود زیادہ تر شہری ان علاقوں میں رہنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔
روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں نے دعوی کیا ہے کہ یوکرین حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس دعوے کا وہ کوئی ثبوت نہیں دے سکے۔
روس کے میڈیا نے باغیوں کے علاقوں میں سنیچر کے روز مبینہ حملوں سے متعلق متعدد رپورٹس بھی جاری کی ہیں جن کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔
روس کی جانب سے ان اطلاعات پر تفتیش کا آغاز بھی کیا گیا، جن کی یوکرین تردید کرتا ہے، کہ چند گولے روس کی سرحد کے اندر روسٹوو ریجن میں یوکرین کی سرحد سے ایک کلومیٹر اندر گر کر پھٹے۔
گولہ باری کی اطلاعات کے دوران جرمنی اور فرانس نے بھی دیگر مغربی ممالک کی طرح اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ جرمنی کی فضائی کمپنی لفتھانزا پیر کے دن سے یوکرین سے ایک ہفتے کے لیے فلائٹس معطل کر دے گی۔
امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ’آنے والے دنوں‘ میں حملہ ہو سکتا ہے۔
بائیڈن نے کہا کہ وہ یہ بات امریکی انٹیلی جنس کی معلومات کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں، جس کا ماننا ہے کہ دارالحکومت کیؤ کو نشانہ بنایا جائے گا۔
روس اس کی تردید کرتا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ روس یوکرین کے الگ ہونے والے مشرقی علاقوں میں ایک بحران کی صورتحال بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسے جارحانہ کارروائی شروع کرنے کا جواز مل سکے۔
امریکہ کا اندازہ ہے کہ 169000 سے 190000 روسی اہلکار یوکرین کے اندر اور اس کی سرحد کے قریبی علاقوں میں موجود ہیں، اس تعداد میں مشرقی یوکرین میں ڈونیٹسک اور لوہانسک کی خود ساختہ جمہوریہ میں روسی حمایت یافتہ جنگجو بھی شامل ہیں۔
جمعے کو بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ایک اور اشارہ تب ملا جب دو علیحدگی پسند علاقوں کے رہنماؤں نے رہائشیوں کے انخلا کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین نے گولہ باری تیز کر دی ہے اور وہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
یوکرین نے بارہا کہا ہے کہ وہ کسی حملے کی منصوبہ بندی نہیں کر رہا ہے، اور وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے اسے’روسی ڈس انفارمیشن رپورٹس‘ کہتے ہوئے مسترد کر دیا۔
اس خطے میں لاکھوں لوگ آباد ہیں اور اس طرح کا انخلا ایک بہت بڑا اقدام ہو گا۔ آنے والے دنوں میں بڑے پیمانے پر انخلا کا کوئی اشارہ نہیں ملا تاہم روس کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ مقامی باشندوں کو لے کر کئی بسیں روس کی طرف روانہ ہو چکی ہیں۔
ڈونیسٹک پیپلز ریپبلک کے سربراہ ڈینس پوشیلین نے انخلا کا اعلان جمعے کے روز فلمائی جانے والی ایک ویڈیو میں کیا۔ تاہم بی بی سی کے میٹا ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اسے دو دن پہلے ریکارڈ کیا گیا تھا۔
کریملن کے مطابق صدر پوتن نے حکم دیا ہے کہ سرحد کے قریب پناہ گزین کیمپ قائم کیے جائیں اور علیحدگی پسند علاقوں سے آنے والے لوگوں کی ’ہنگامی‘ طور پر مدد کی جائے۔
روس سنہ 2014 سے یوکرین کے مشرقی دونباس علاقے میں مسلح بغاوت کی حمایت کر رہا ہے۔ لڑائی میں تقریباً 14000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بہت سے شہری بھی شامل ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والے واقعات، روس کی جانب سے ’اشتعال انگریزی پیدا کرنے کی کوششوں‘ کا حصہ ہیں تاکہ ’جارحیت‘ کا جواز پیش کیا جا سکے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بعد میں انخلا کے اعلان کو ’ماسکو کی چالاکی‘ قرار دیا، جس کا مقصد دنیا کی توجہ اس حقیقت سے ہٹانا ہے کہ روس یوکرین پر حملے کے لیے اپنی افواج تیار کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا کہ انخلا اس بات کی ایک مثال ہے کہ ماسکو جنگ کے لیے بہانے کے طور پر غلط معلومات استعمال کر رہا ہے۔
جمعے کی رات، یوکرین کی ملٹری انٹیلی جنس سروس نے کہا کہ اسے اطلاع ملی تھی کہ ڈونیٹسک میں فالس فلیگ آپریشن کے ارادے سے تنصیبات پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔ اس آپریشن کا مقصد یہ تھا کہ مخالف پر حملے کا الزام لگایا جا سکے۔
اس سے قبل علیحدگی پسند حکام نے کہا تھا کہ ڈونیٹسک میں ایک سرکاری عمارت کے قریب کھڑی جیپ کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔ امریکی اور یوکرینی حکام کا کہا ہے اس اقدام کا مقصد کشیدگی کو ہوا دینا تھا۔
روس سنہ 2014 سے یوکرین کے مشرقی دونباس علاقے میں مسلح بغاوت کی حمایت کر رہا ہے۔ لڑائی میں تقریباً 14000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بہت سے شہری بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب پوتن نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں حالات خراب ہو رہے ہیں۔
ایک نیوز کانفرنس میں انھوں نے ’انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر منظم خلاف ورزیوں‘ اور یوکرین میں ’روسی بولنے والی آبادی کے ساتھ امتیازی سلوک‘ کے غیر مصدقہ الزامات عائد کیے۔
انھوں نے کہا کہ وہ مغربی رہنماؤں کے ساتھ بحران پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن انھوں نے روس کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا اور متنبہ کیا کہ کسی بھی معاہدے میں قانونی طور یہ شامل ہونا چاہیے کہ نیٹو سکیورٹی اتحاد اپنی مشرق کی جانب توسیع کو روک دے گا۔