اظہار یکجہتی کرنے والوں میں ایچ ار سی پی کے صوبائی چیئرپرسن پرسن قاضی خضر کونسل ممبران سعید بلوچ عبدالله بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے وفود مخاطب ہوکر کہا کہ ہم دنیا کی ہر اونچ نیچ نشیب، فراز سے واقف ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں اپنی قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر لاپتہ افراد کی بازیابی کی پُر امن جدجہد کر رہے ہیں دنیا کو ہماری تاریخ دیکھ کر یہ یقین ہونا چاہئے کہ ہم جتنا اپنے سے محبت کرتے ہیں اسی طرح انسانیت سے ہم اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں لیکن بہحثیت انسان ہم پوری دنیا کے ساتھ ہمدردی قربت یکجہتی رکھنے کا خواہش مند ہیں ہر قوم ہر مذہب کا احترام کرتے ہیں اور ہماری تاریخ میں قوم پرستی کی منفی پہلو اختیار کرنے کی گواہی نہیں ملتی اور ہم ہر وقت تعمیری سوچ اپنا کر ترقی و خوشحالی امن کی خاطر قربان ہوتے رہے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر دنیا اس خطے میں امن قاںٔم کرنا چاہتی ہے تو لاپتہ افراد کی بازیابی آپریشن لاپتہ کرنا بند کرۓ ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی بنائی ہوئی قوانین کے تحت اپنی افاقی اور بنیادی حق کی بات کرتی ہے تو اپ اسے اٹھا کر غائب کرتے ہیں ٹارگٹ کلنگ یا مسخ لاشیں پھینکتے ہیں دیہاتوں کے دیہاتوں پہ بمباری کرتے ہیں لوٹ مار خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں اور نوجوان بزرگوں کو لاپتہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ غدار ہیں آج بلوچ سرزمین کا ایک ایک انچ لہولہان ہے ہر گھر انسانی حقوق کی رياستی پامالی کا شکار ہے اور بلوچ نسل کشی کو اپ غداری کے لبادے میں ڈالے انسانی حقوق کی دھہجیاں اُڑارہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ باسیوں کو اپنے بروز شمشیر غلام بنایا یہ سرسری یا جذباتی باتیں نہیں تاریخ عالم پر نظر ڈالیں تو شاید یہاں صاحب علم، دیگر کو پتہ چل جائے کہ بلوچ کون ہیں آج جب بلوچ قوم جاگ اُٹھے ہیں تو اپ انسانیت کی دھہجیاں اُڑاۓ رہے ہیں ایک قوم کی تشخص ثقافت کو شناخت کی کوئی اہمیت نہیں اگر ہے تو پھر بلوچ سندھی پشتون اقوام کی اس بےدردی سے قتل عام کو نساانسانی قانون ہے۔