سیاسی اور سماجی مسائل کو اجاگر کرنے میں جو کردار میڈیاادا کرسکتا ہے وہ شاید ہی کسی اور پلیٹ فارم سے ممکن ہو۔ بلوچستان جو پچھلے 74سالوں سے نوآبادیاتی نظام کے بدترین دور سے گزررہا ہے، اس حوالے سے سیاسی عمل کے ذریعے دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوششیں کی گئی۔ البتہ صحافتی لحاظ سے پچھلے ادوار میں کچھ کمزروریاں ضرور سرزد ہوئی ہیں یا اگر یہ کہا جائے کہ ٹیکنالوجی نے اس سے قبل اتنی ترقی نہیں کی تھی اسی لیے اس اہم عمل میں کوئی خاص پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملتی۔ لیکن حالیہ بلوچ تحریکِ آزادی نے گزشتہ تحاریک کے اس خلاء کو پُر کرنے کی حتیٰ الوسع کوشش کی۔ اسی مد میں ہم ادارہ سنگر کو بھی دیکھتے ہیں بلکہ یہ ادارہ شاید دوسرے صحافتی اداروں سے منفرد اہمیت کا حامل ہے جہاں گزشتہ 13سالوں سے تسلسل کے ساتھ بلوچ اور بلوچستان کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں اہم مقام کا حامل رہا ہے۔
ادارہ سنگر کے قیام کو تیرہ سال ہونے کو ہے جہاں 2009ء میں کتابی اشاعت کے ساتھ اس کی شروعات ہوئی۔ جبکہ 2012ء میں ادارہ سنگر کے ماہنامہ میگزین کا سلسلہ شروع ہوا جو گزشتہ دس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہورہاہے۔
ادارہ سنگر نے اپنے رسالوں میں بلوچ قومی مسئلہ اور اس کے حل، بلوچ قوم پہ ڈھانے جانے والے مظالم کے ساتھ ساتھ خطے میں بسنے والے دیگر محکوم اقوام کی آواز عالمی اداروں تک پہنچانے کی جوکوشش کی ہے وہ قابل ستائش ہیں جس سے ادارے کی صحافتی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے۔ اس مختصر مدت میں ادارے کی ہر ممکن کوشش رہی ہے کہ وہ استحصالی قوتوں کے مظالم کا پردہ فاش کرے،اس ضمن میں ہم دیکھتے ہیں ادارے نے مقبولیت بھی حاصل کی جو اس کی کارکردگی بیان کرتی ہے۔
ادارہ سنگر جس کی ابتداء کتابی اشاعت سے ہوا، اب تک ادارے نے مختلف موضوعات پہ 24کتابیں شائع کی ہیں جو صحافتی دنیا میں کسی بھی بلوچ آزادی پسند ادارے سے میلوں آگے ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی ادارہ چند ایک کتابیں جن کے ناموں کا اعلان ہوچکا ہے شائع کرنے والا ہے جو یقیناً قارئین کے لیے علم کی دنیا میں اہم پیش رفت ثابت ہوں گی۔
میگزین اور کتابی سلسلے کے علاوہ ادارہ سنگر کے روزانہ کی بنیاد پہ خبروں اور تجزیوں کو سماج میں اہم مقام حاصل رہا ہے۔ اس ضمن میں ادارے کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ مصدقہ خبروں کو ادارے کا حصہ بنائیں تاکہ زرد صحافتی عمل سے چھٹکارہ ممکن ہوجو قابض ریاستی اداروں کا وطیرہ رہا ہے۔ علاوہ ازیں ادارے کی جانب سے وقتاً فوقتاً رہنماؤں، دانشوروں اورتجزیہ نگاروں کے انٹریوز بھی شائع اورالیکٹرک میڈیا میں نشر ہوتے رہے ہیں جن میں بلوچ اور بلوچستان مسئلے کو مدبرانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
ادارہ سنگر کی جو کارکردگی گزشتہ عرصوں میں رہا ہے، مستقبل میں نہ صرف اسی تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا بلکہ جدت کی جانب مزید پیش رفت کی جائے گی تاکہ بلوچ اور بلوچستان کے ساتھ دیگر محکوم اقوام کو درپیش مسائل کے اجراء کو بروقت یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر صحافتی میدان میں متحرک اداروں سے ہم آہنگی کے ذریعے ان کی آواز بن کر اپنی فرائض کو نبھانے کی کوشش کی جائے گی۔
٭٭٭