تربت میں میرانی ڈیم ناصرآباد کے متاثرین کی ایک وفد نے مہراب دشتی کی سربراہی میں کمشنر مکران شبیر احمد مینگل سے ملاقات کرکے گزشتہ 17 سال سے التواء کا شکار اپنے باغات کے معاوضوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر مہراب دشتی نے کمشنر مکران کو میرانی ڈیم ناصرآباد کے متاثرہ زمینداروں کی مشکلات اور انکے معاوضوں کی عدم ادائیگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور کہا کہ چند افراد تھرڈ پرسن کے نام پر زمینداروں کے معاوضوں کی ادائیگی کے سامنے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جبکہ انکے علاوہ تمام زمینداروں اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ سابقہ سروے کے مطابق انھیں معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ سابقہ ڈپٹی کمشنر کیچ سرمدسلیم نے جو سروے کیا تھا اس سروے کو حتمی شکل دے کر ادائیگی کی جائے۔
اس موقع پر ایک متاثرین نے کمشنر مکران کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے مشکلات کا رونا رویا۔
کمشنر مکران نے میرانی ڈیم کے متاثرہ زمینداروں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک جاکر اس مسلے کو دیکھیں گے اور اس حوالے سے تمام محکموں کے اسٹک ہولڈروں کا میٹنگ طلب کی جائے گی جس میں ڈپٹی کمشنر کیچ بھی شامل ہوں گے۔
متاثرین نے کمشنر مکران پر واضح کردیا کی دو ہفتے کے اندر اگر انکا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ روڈ بلاک اور دیگر احتجاج کے طریقے استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔