بلوچ قوم پرست اور آزادی پسندرہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے دو الگ الگ ٹویٹ میں چین کی پاکستان کو رقم اور دیگر فوجی ہارڈویئرزکی فراہمی سمیت بلوچ نسل میں براہ راست کرداراور بلوچستان میں میڈیا بلیک آؤٹ سے پاکستانی فوج کی جنگی جرائم سے بچ نکلنے پر کہا ہے کہ
”وائس آف امریکہ اردو رپورٹ کرتا ہے کہ وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے سربراہ نے پاکستانی وزارت داخلہ کو 400 لاپتہ افراد کی فہرست پیش کی ہے لیکن درحقیقت بلوچستان میں ہزاروں بلوچ لاپتہ ہیں۔ میڈیا بلیک آؤٹ کی وجہ سے کچھ رپورٹ نہیں ہوتا یوں [پاکستانی] فوج بلوچستان میں جنگی جرائم سے آزاد ہو جاتی ہے۔“
بلوچ رہنما نے اپنے دوسرے ٹویٹ میں کہا ہے ”چین پاکستان کو رقم، فوجی ہارڈویئر، جنگی حکمت عملی اور بین الاقوامی سفارتی مدد فراہم کرکے بلوچ نسل کشی میں براہ راست ملوث ہے۔ مغربی طاقتوں اور انسانی حقوق کے اداروں کو اس ناپاک اتحاد کو بلوچستان میں انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔“