جیے سندھ متحدہ محاذ کے چیئرمین شفیع برفت نے اپنے بیان میں کہا سندھ میں پاکستان کی ایجنسیوں، آئی ایس آئی، فوج اور رینجرز کی طرف سے قومی تحریک کے خلاف کارروائی میں ایک بار پھر سے تیزی لائی گئی ہے سندھ کے مختف شہروں شہدادکوٹ، قمبر، لاڑکانہ، دادو، نوشہرو فیروز، حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ سمیت دیگر شہروں میں جسمم سمیت مختلف قوم دوست پارٹیوں کے قومی کارکنان کے گھروں پر چھاپوں کے سلسلے شروع کیے گئے ہیں۔
”جیے سندھ متحدہ محاذ کے سینٹرل کمیٹی کے رہنما حامد بھٹو سمیت متعدد سیاسی قومی کارکن ریاستی ایجنسیوں کے ہاتھوں گرفتار اور لاپتا کیے گئے ہیں جن میں لبیک چانڈیو، مظہر چھچھر، وقار چانڈیو، سکندر آریجو، خالد زمان چولیانی اور دیگر شامل ہیں۔“
انھوں نے کہا جسمم کی طرف سے عالمی برادری انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے،یورپی یونین، برطانیہ،امریکہ سمیت دنیا کے جمہوری ممالک کے سربراہان میڈیا کے اداروں کو اپیل کی گئی ہے کے سندھ پاکستان کی جبری غلامی، فاشزم، سیاسی جبر، معاشی استحصال اور قومی نسل کشی کا شکار ہے۔
شفیع برفت کا کہنا ہے جس پاکستانی فاشسٹ ریاست نے 1971 میں بنگالی قوم کے تیس لاکھ افراد کو بدترین ریاستی فاشزم اور دہشتگردی کے ذریعے قتل کیا تھا وہ ریاست اب سندھی قوم کی سیاسی معاشی قومی نسل کشی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔سندھی قوم اپنے مادرے وطن سندھودیش کو پاکستان کے فاشزم اور بربریت سے بچانے اور اپنی قومی آزادی کے لیے سیاسی جدوجہد کر رہی ہے۔جس کے خلاف پاکستانی ریاست کا فاشزم اور غیر انسانی تشدد جبر گزشتہ75 سال سے جاری ہے۔
”پاکستانی ریاست نے سندھ کو مذہب کے نام پر دھوکے اور سیاسی جعلسازی کے ذریعے غلام بنایا ہوا ہے، سندھی ایک تاریخی قوم ہیں جو انڈس ویلے سولائزیشن کی خالق اور مالک مہذب قوم ہے۔سندھ تہذیبوں کی ماں دھرتی ہے سندھ پوری دنیا اور انسانیت کے لیے عظیم تاریخی اور تہذیبی ورثہ رکھتی ہے۔سندھ جو ہزاروں سال سے ایک آزاد خود مختار ریاست رہی ہے جس کو تاریخ میں سپت سندھودیش کے نام سے پوری دنیا جانتی ہے۔سندھ جو دنیا کی پہلی شہری ریاست موئن جو دڑو کی تعمیر کا اعزاز رکھتا ہے۔سندھو دیش وطن اور سندھی قوم پوری دنیا اور انسانیت کے لیے اتھینز اور روم کی عظیم تہذیبوں سے بھی پہلے دنیا میں سیاسی معاشی معاشرتی شہری قانون اور ادارے تخلیق کرنے کا اعزاز رکھتی ہے۔سندھ جو کے پوری مہذب دنیا اور انسانیت کے لیے تہذیبی اور تمدنی حوالے سے بابا آدم کا درجہ رکھتی ہے۔ اس عظیم دھرتی سندھ کو پاکستانی ریاست میں جبری غلام بنایا گیا ہے۔سندھ آج پاکستان میں سیاسی جبر، معاشی استحصال اور بدترین غلامی اور ذلت کا شکار ہے، سندھی قوم کے تاریخی قومی شعور کو کچلنے اور غلام رکھنے کے لیے آج بھی پاکستان کی فوج، ایجنسیاں سندھ کے سیاسی شعور کے خلاف ہولوکاسٹ کو دہرا رہی ہیں۔“
انھوں نے کہا ہم دنیا کو اپیل کرتے ہیں کے سندھ جو آج پاکستان جیسی اسلامی دہشت گرد، فاشسٹ اور مکار ریاست کے خلاف غلامی اور ذلت سے آزادی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔سندھ اس وقت بھی ریاست کے سیاسی معاشی جبر، ماشتری نا انصافیوں، نسل کشی، فاشزم درندگی اور دہشتگردی کے خلاف اپنا سیاسی آواز بلند کر رہا ہے۔کیونکہ آزادی ہر تاریخی قوم کی طرح سندھی قوم کا بھی فطری حق ہے مگر غیر فطری ریاست نے پاکستان سندھ کے قومی آواز شعور اور تاریخی جدوجہد کو کچلنے کے لیے قومی تحریک کے خلاف بدترین آپریشن اور فاشزم کو تیز کر دیا ہے اور سندھ سے سیکڑوں کارکنان کو گذشتہ کئی سال سے ریاستی ایجنسیوں نے پہلے سے ہی خفیہ عقوبت خانوں اور ٹارچر سیل میں قید رکھا ہوا ہیجن کے خلاف غیر انسانی تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔متعدد قومی کارکنوں کی مسخ شدہ اور جلی ہوئی لاشیں ایجنسیوں کی طرف سے سڑکوں پر پھینکی گئی ہیں اورایک مرتبہ پھر سے قومی تحریک کے خلاف ریاستی ایجنسیوں اور فوج نے گذشتہ کچھ دنوں سے چھاپوں،گرفتاریوں گمشدگیوں کا سلسلہ اور آپریشن جاری ہے۔جس کے خلاف اقوام متحدہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو نوٹس لینا چاہیے۔
”جسمم کی طرف سے پوری مہذب اور جمہوری دنیا کو اپیل کی جاتی ہے کے پاکستان پر سیاسی سفارتی اخلاقی دباؤ ڈالا جائے کے وہ سندھ کو غلام بنا کر سندھ کے سیاسی قومی تحریک کے خلاف فاشز اور بربریت کو فورن بند کرے اور گذشتہ کئی سال سے ریاستی اداروں، ایجنسیوں کے ٹارچر سیل میں قید سندھ کے سیاسی کارکنوں کو فورن رہا کیا جا? تاکہ پاکستان کی ایجنسیوں سے سندھ کے سیاسی کارکنوں کی زندگیوں کو بچایا اور محفوظ کیا جاسکے۔