پاکستان سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات ایک روزہ دورے پر گوادر پہنچ گئی۔
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا کے زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں سینیٹر پلوشہ خان، سینیٹر دوست محمد اور سینیٹر شفیق ترین اور چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور نے سینیٹ کے قائمہ کمیٹی کو سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر جاری کام سے متعلق بریفنگ دی۔
اجلاس میں چیرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نصیر خان کاشانی نے گوادر پورٹ کے ترقیاتی کاموں اور اب تک کی پیشرفت و کارکردگی، گوادر پورٹ فری زون اور گوادر میں سی پیک منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی جبکہ ڈی جی گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل شاہ زیب خان کاکڑ نے گوادر شہر کے انفرا اسٹرکچر و ترقیاتی کاموں پر بریفنگ جبکہ گوادر میں پانی، بجلی اور گیس سمیت دیگر اہم منصوبوں پر منصوبہ بندی کے حوالے سے اجلاس کو آگاہ کیا۔
اجلاس میں چیرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نصیر خان کاشانی ایسٹ بے ایکسپریس وے کے منصوبے پر اجلاس کو بھی بریفنگ دی اور قائمہ کمیٹی نے گوادر بندرگاہ اور گوادر میں پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے سائیٹ کا دورہ و معائنہ کیا۔
سائیٹ پر بریفنگ لے گا اور سینٹ کے قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقیات نے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ آف گوادر میں انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔
واضع رہے کہ گوادر جسے پاکستانی حکومت اور میڈیاسنگاپور سے تشبیہ دیتی ہے اصل میں حقیقت کچھ اور ہے۔یہاں کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اورگوادر کے لوگ گذشتہ گیارہ دنوں سے پورٹ روڈ پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ اور ان کا مطالبہ ہے کہ غیر قانونی ٹرالنگ بند کی جائے،جبری گمشدگی بندکی جائیں، پانی وبجلی فراہم کی جائے اورایران بلوچستان بارڈر پر تجارتی کیلئے ٹوکن سسٹم کا خاتمہ کیا جائے۔