جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری بلوچستان کو حقوق دو تحریک کے روح رواں حضرات مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہاکہ بااختیار لوگوں سے بامقصدمذاکرات کیلئے تیار ہیں بصورت دیگر127دنوں کا دھرنا دیکرپی ٹی آئی کے دھرنے کا ریکارڈ تھوڑدیں گے۔ بلوچستان کے عوام کیساتھ ظلم وناانصافی مزید نہیں ہونے دیں گے۔ناجائزچیک پوسٹوں اورچیک پوسٹوں پر مزید تذلیل فی الفور بند ہونا چاہیے۔ہمیں بھی پاکستانی سمجھ کر سہولیات ووسائل پراختیار دیاجائے۔ہم بھی پاکستانی ہیں۔
لیکن اگر ہمیں مذید غیر سمجھ کر بدسلوکی،بدتمیزی،ناجائز جاری رہاتوپھر ہم بھی ان ظالموں کیساتھ مقابلہ کریں گے۔حق دوتحریک مسائل کے حل تک جاری رہیگی گوادر کے سیاسی پارٹیوں کو دھرنے میں بیٹھنے کی دعوت دیتے ہیں۔وقت ضائع کرنے،بے اختیار لوگ ہمارے پاس نہ آئے۔سیکورٹی فورسز،جی ڈی اے وحکومتی ادارے گوادر کے معصوم ومظلوم عوام پر رحم کریں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے حق دو تحریک کے زیراہتمام گوادرشہر میں چھٹے دن دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ ہمیں غیر وملک دشمن وایجنٹ نہ قراردیا جائے۔ایکسپریس وے کے متاثرین کا دوبارہ سروے کیا جائے۔عزت نفس مجرو ح نہ کیا جائے ہم اداروں وملک کے دشمن نہیں۔ہمارے مطالبات آئنی حقیقی اور عوام دوست اجتماعی مطالبات ہیں آئین پاکستان کے اندر رہتے ہوئے مطالبات کررہے ہیں ہمارے مطالبات فی الفور تسلیم کیے جائیں۔
گوادر کے عوام اور دھرنے میں بیٹھے ہوئے نوجوانوں کی ہمت وجوانمردی کو سلام پیش کرتاہوں قومی میڈیا کی بلوچستان دشمنی نامنظورہے قومی جماعتوں کی طرح،قومی میڈیابھی بلوچستان کے مسائل کے ذمہ دارہیں۔سوشل میڈیاہماری تواناآوازبنے گی عوام سوشل میڈیاپر مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے دن رات ایک کرکے کام کریں۔حکومت بلوچستان کے بے روزگاروں کو روزگاردیں وفاقی محکموں میں بلوچستان کی ہزاروں اسامیاں خالی لیکن ان لٹیروں کو بلوچستان کے بے روزگارنوجوان نظر نہیں آتے۔حکمرانوں کوبلوچستان کو ترقی دینے کی پالیسی صرف چیک پوسٹ بنانا،بارڈر پر ہر قسم کی تجارت بند کرنا اور بلوچستان کے عوام کو انسان نہ سمجھنے کی پالیسی منفی ذہنیت کی پالیسی ہے۔حکمران بلوچستان کے حوالے ظالمانہ پالیسی پرنظرثانی کریں بلوچستان کو حق دو تحریک میں مزید وسعت لاکر حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدارکریں گے 15نومبر تک ہمارے جائز قانونی مطالبات پر عمل نہیں کیے گیے تو حالات حکمرانوں کے قابو سے باہر ہوجائیں گے۔
اور ہم عوام سے ملکر بھر پور طاقت سے ان لٹیرے حکمرانوں کا مقابلہ کریں گے۔کہاں جارہے ہو کہاں جارہے ہو،اپنے گھر کے سامنے اپنے شہر میں دن میں پانچ دفعہ شناخت دینے کے نام پر تذلیل مذید برداشت نہیں کریں گے۔ بلوچستان کو حق دو تحریک صوبے کے تمام مظلوم اقوام کی تحریک ہے ہم مظلوموں کی آوازبنناچاہتے ہیں۔نوجوانوں کے دل جیتنے کیلئے حکمرانوں کو رویے ٹھیک کرنے ہوں گے بلوچستان کے نوجوانوں سے روزگار چھین کر انہیں اسلحے،احتجاج وپہاڑوں کی طرف دھکیلنے والے ہمارے دشمن ہے۔منظم سازش کے تحت بلوچستا ن کے نوجوانوں سے روزگار چھیننا جارہا ہے اوراحسا س محرومی کی راہ پر ڈال کر پہاڑوں کی طرف بھیجوانے والے یہاں کے عوام کے خیر خواہ نہیں جو بھی اقتدارمیں آجاتے ہیں انہیں بلوچستان کے حقوق بلوچستان کے نوجوان اور ان سے کیے ہوئے وعدے بھول جاتے ہیں ہم بلوچستان کے عوام بلخصوص نوجوانوں کو ان کے جائز قانونی حقوق دیں گے وفاق یا دیگر صوبوں اوربلوچستان کے حکمرانوں کو نوجوان اورمظلوم طبقات کے حقوق کھانے نہیں دیں گے عوام ہمار اساتھ دیں انشا اللہ کامیابی وکامرانی ملے گی۔