اسلام آباد ہائیکورٹ کاانصار عباسی، شکیل الرحمان اور رانا شمیم کیخلاف توہین عدالت کی کارروئی کافیصلہ

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

پاکستان کی اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی پر خبر شائع ہونے کے معاملے پر جنگ گروپ کے صحافی انصار عباسی، میر شکیل اور رانا شمیم کے خلاف باقاعدہ توہین عدالت کی کارروئی شروع کرنے کا فیصلہ سُنایا ہے۔

عدالت نے صحافی انصار عباسی اور سابق جج رانا شمیم سمیت فریقین کو شوکاز نوٹسز جاری کرتے ہوئے سات دن میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 26 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’یہ تنقید نہیں بلکہ عدالت پر حملہ ہے، اہم حقائق کو جانچے بغیر ایک اتنے بڑے اخبار نے یہ حلف نامہ دے دیا۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمارا احتساب ضرور کریں مگر نظام عدل کے رستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔

انھوں نے صحافی انصار عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یا مسٹر شمیم ثبوت لے آئیں تو سابق چیف جسٹس کے خلاف کارروائی سے بھی بالکل ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت کیس پر اثرانداز ہونے کے دعوے کا نوٹس لیتے ہوئے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم سمیت صحافی انصار عباسی اور جنگ اور جیو گروپ کی انتظامیہ کو آج ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم کی طرف سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کو سنہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل ضمانت نہ دینے پر اصرار کرنے کے دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔

منگل کے روز ہونے والی اس سماعت میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمان، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری، صحافی انصار عباسی، رانا شمیم کے وکیل اور بیٹے احمد حسن رانا، اٹارنی جنرل پاکستان سمیت دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کا آغاز کرتے ہوئے جنگ گروپ کے ایڈیٹر ان چیف میرشکیل الرحمان کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ ’ہم نے بھاری دل کے ساتھ آپ کو طلب کیا لیکن آپ کی خبر سے اس عدالت پر حرف آیا ہے۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ’اگر لوگوں کا عدالت سے اعتماد اٹھ جائے گا تو پھر افراتفری ہو گی اور آپ نے بدقسمتی سے یہی کام کیا ہے۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے میر شکیل اور صحافی انصار عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ زرا دی نیوز کی ہیڈ لائن پڑھیں۔‘ جس پر انصار عباسی نے عدالت میں اپنی خبر کی ہیڈ لائن پڑھ کر سنائی۔

جس کے بعد جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’یہ تنقید نہیں بلکہ عدالت پر حملہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ میرا احتساب ہے۔ آپ نے جج کے نام کے بجائے جگہ خالی چھوڑ دی، جس سے ہمارے اوپر حرف آیا۔‘

جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ ’اہم حقائق کو جانچے بغیر ایک اتنے بڑے اخبار نے یہ حلف نامہ دے دیا۔ اگر میرے سامنے کوئی چیف جسٹس ایسی بات کرے تو فوراً سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھ کر دوں گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسے پراسرار حلف نامے شائع کر دیے جاتے ہیں، ’ہمارا احتساب ضرور کریں مگر نظام عدل کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔‘

انصار عباسی نے جب عدالت سے بولنے کی اجازت مانگی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ’اب آپ کیا کہیں گے، آپ نے جو نقصان کرنا تھا وہ کر دیا۔‘

انصار عباسی نے پھر کہا کہ ’مجھے بولنے تو دیں‘، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تھوڑا صبر کریں، دوسرے فریق کہاں ہیں؟‘

سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا شمیم کی طرف سے ان کے بیٹے جو وپیشے کی اعتبار سے وکیل ہیں، عدالت میں پیش ہوئے۔

صحافی انصار عباسی نے عدالت کو بتایا کہ ’میں صحافی ہوں، میں میسینجر ہوں‘ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ صرف میسینجر نہیں ہیں۔ کیا لندن میں گارڈین ایسا حلف نامہ شائع کرنے کی اجازت دے سکتا ہے‘

جس پر انصار عباسی نے کہا کہ ’میں نے سب اس عدالت کی عزت کے لیے کیا، میرے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دیں مگر اس معاملے پر تحقیقات ہونی چائیے۔‘

دوران سماعت چیف جسٹس نے ’دی نیوز‘ کے ایڈیٹر عامر غوری سے استفسار کیا کہ کیا ایسے حلف نامے کی بنیاد پر جو کسی جوڈیشل فورم کے سامنے بھی پیش نہ کیا گیا ہو لندن کے گارڈین اخبار میں خبر شائع ہو سکتی ہے؟

عامر غوری نے کچھ وقت لیا اور پھر محتاط لہجے میں گویا ہوئے کہ اگر دستاویزات ہوں اور فریقین کا مؤقف لیا ہو تو پھر۔

انصار عباسی کے علاوہ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیٹے نے، جو وکیل بھی ہیں، قدرے جارحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کے سابق چیف جج کے خلاف توہین آمیز بیانات کا بھی نوٹس لیں۔ انھوں نے سماعت سے قبل عدالتی عملے سے اس پروگرام کی عدالت میں ویڈیو چلانے کے انتظامات کی بھی درخواست کی جو منظور نہیں ہوئی۔

آج کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اس وقت خاموشی توڑی جب رانا شمیم کے بیٹے نے کہا کہ ان کے والد چھ نومبر کو اپنے بھائی کی وفات کی وجہ سے آج عدالت میں حاضر نہیں ہو سکے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عام طور پر وہ ایسے معاملات سے الگ تھلگ ہی رہتے ہیں مگر یہ بات عدالت کی تکریم اور نظام عدل کی ہے تو وہ یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ اگر رانا شمیم اپنے بھائی کی وفات کے بعد دس نومبر کو لندن جا کر اپنے حلف نامے کی تصدیق کرا سکتے ہیں تو پھر وہ عدالت میں کیوں پیش نہیں ہو سکتے؟

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment