حب سے فورسز نے ایک ایک نوجوان کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیاجبکہ پنجگور سے ایک لاپتہ نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا۔
ضلع آواران کی تحصیل جاھو کے رہائشی میاداد ولد رسول بخش کو ملٹری انٹلی جنس (ایم آئی) اہلکاروں نے حب سے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کردیا۔
جبری گمشدگی کے شکار میادادحب میں جلد کی ایک بیماری کے علاج کے لیے آئے تھے جنھیں 5 نومبر 2021 کی رات 12 بجے ایم آئی کے اہلکاروں نے یہاں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا کر گرفتار کیا۔
ایم آئی کے مسلح اہلکار سرف گاڑی کے ساتھ آئے اور میاداد ولد رسول بخش کو بغیر کوئی وجہ بتائے حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے اور تب سے ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔
دریں اثناپنجگور سے فورسز ہاتھوں کے جبری گمشدگی کے شکارنوجوان رہا ہوکرگھر پہنچ گیا۔
پنجگور میں 28 اکتوبر کو لاپتہ کئے گئے نوجوان احسان گذشتہ روز8 نومبر کی رات رہاہوکر اپنے گھر پہنچ گئے۔
رہائی پانے والے نوجوان کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ انہیں فوج نے حراست کے دوران بے انتہا تشدد کا نشانہ بنایا اسی لیے انھیں ذہنی اور جسمانی صحت یابی کے لیے علاج کی ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق سفید رنگ کی سرف گاڑی میں سوار ملٹری انٹلی جنس (ایم آئی) کے اہلکاروں نے احسان کو گرفتاری کے بعد جبری لاپتہ کیا جس کے خلاف ان کی بہن نے پنجگور پریس کلب کے سامنے احتجاج کی کال دی تھی اور انھیں 8 نومبر کی رات کو رہا کردیا گیا۔