افغان شہریوں کو اب کابل ایئرپورٹ جانے کی اجازت نہیں ہو گی، طالبان

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کاکابل میں ایک پریس کانفرنس کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر افراتفری کی صورتحال کے باعث طالبان اب افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ پر جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر موجود ہجوم کو واپس اپنے گھروں کو جانا چاہیے ان کی حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ لوگوں کو پروازوں پر آنے کی دعوت دیتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے امریکیوں کو کہا ہے کہ افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ترغیب نہ دیں، ہمیں ان کے ہنر کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں ہسپتال، سکول، یونیورسٹیاں، میڈیا کے ادارے اور مقامی حکومتیں کام کر رہی ہیں۔

ملک میں گلوکاروں اور فلمسازوں کا مستقبل کیا ہو گا کے سوال کے جواب میں طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ شرعی قانون لے کر آئیں، اگر اسلامی شریعت میں رہتے ہوئے فلمیں یا ڈرامے بناتے ہیں اور گانے بناتے ہیں اس کی اجازت ہو گی۔

مگر اگر وہ اسلامی شریعت کے مطابق نہیں ہو گا تو وہ اپنے پروفیشن کو بدل لیں کیونکہ وہ مسلمان ہیں اور اسلامی احکامات کا احترام کریں جس کے لیے ہم نے بہت قربانی دی ہے۔بہتر ہے کہ ہم شرعی زندگی گزاریں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’افغانستان میں امریکہ کی موجودگی ہمارے معاہدے کے خلاف ہے۔‘

پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کہ کیا طالبان انخلا کی تاریخ میں توسیع کے لیے تیار ہیں کا جواب دیتے ہوئے طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ مقررہ تاریخ تک اپنا انخلا مکمل کر لے تاہم اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو ہم اس پر بعد میں اپنا موقف دیں گے۔‘

کابل ایئر پورٹ پر ہونے والے حادثے کے حوالے سے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ہم نے کوئی فائرنگ نہیں کی۔ ہوائی اڈے کے اندر کی سکیورٹی امریکہ کے پاس ہے۔‘

صحافیوں نے پریس کانفرنس کے دوران کابل ایئر پورٹ پر فلمنگ کی اجازت نہ دی جانے کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے محفوظ فاصلہ رکھ کر دور رہ کر کام کریں۔‘

خواتین کے منسٹری کے دفاتر میں نہ جا سکنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’ان کی سکیورٹی کی خاطر ہم خواتین کو وہاں نہیں جانے دے رہے۔ وہاں ہمارے جنگجو موجود ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہاں پر جو بیت المال کا سامان ہے وہ چوری نہ ہو اس لیے اس کو بند کیا ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ملک کے آئین کے حوالے سے ابھی دیکھ رہے ہیں۔

طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کے تحت دی جانے والی امداد کا خیرمقدم کریں گے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کہ افغانستان کو کتنی امداد کی ضرورت ہے کے جواب میں کہا ہے کہ ’ہمیں ممالک کی جانب سے انسانی ہمدردی کے تحت امداد کی ضرورت ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔ لیکن ہم اس مدد کے حق میں نہیں ہیں جو ہماری آزادی یا شناخت کی قیمت پر ہو۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’پنجشیر کا مسئلہ‘ ایک معمولی مسئلہ ہے اور اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان سمجھتے ہیں کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل کر لیا جائے گا۔‘

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں حکومت سازی کا عمل جلد مکمل ہو۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہے کہ اس وقت افغانستان میں امور مملکت اور ادارے احسن طور پر چل رہے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملک و قوم کی خدمت کرنے والے ادارے مکمل طور پر بحال ہیں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں واضح طور پر بہتری آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ دس روز میں کسی ماں یا بہن نے اپنے بیٹے یا بھائی سے محروم نہیں ہوئی ہے۔‘

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق تمام ادارے بینک، ہسپتال، سرکاری ٹی وی اور ریڈیو نشریات چل رہی ہیں۔

ان کے مطابق تمام بینکوں نے آزادی سے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

دریں اثناطالبان رہنما خلیل الرحمٰن حقانی نے افغان شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جائیں اور جو پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں وہ واپس آ کر اپنے ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔

پاکستان کے سرکاری چینلز پی ٹی وی، اے پی پی اور ریڈیو پاکستان کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی اگلی حکومت تمام سیاسی جماعتوں اور قبائل گروہوں اور نسلوں کی نمائندگی کرے گی۔

حقانی کے مطابق اسی سلسلے میں مختلف سیاسی اور قبائلی رہنماؤں سے ملاقاتیں جاری ہیں جو کہ طالبان سے بیت کا اعلان کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق انھوں نے سابق صدر حامد کرزئی، چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ کے علاوہ حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار، گل آغا شیرازی، مولانا شیر محمد اور عمر زخیلوال سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

انھوں نے سابق صدر اشرف غنی، ان کے مشیروں اور فوجی سربراہان کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب کو معاف کرتے ہیں اور اب سب کو اپنے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

حقانی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے افغان عوام پر جنگ مسلط کی تھی جس کا مقصد بھائی، بھائی میں فساد پیدا کرنا تھا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment